Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      جاپان میں بڑھی رشتوں میں دھوکے بازی ، تیار کرلی منفرد اسمارٹ برا ، صرف پارٹنر کے فنگر پرنٹ سے کھلے گا ہُک!

      بٹ کوائن میں بڑی گراوٹ: سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل، قیمت 55 ہزار ڈالر تک گرنے کا خدشہ،آخری امید پاکستان؟

       کیاایپل کے سمارٹ گلاسز کا انتظار لمبا ہوگا؟

      کرپٹو کرنسی والے تیاری پکڑیں، بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر کیپٹل گین ٹیکس لگے گا

      اساتذہ کی وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ پالیسی تیار، گولڈن ہینڈ شیک ملے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    پنجاب پولیس: میرٹ، مداخلت اور تبادلوں کی سیاست کے درمیان جاری کشمکش

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    پنجاب پولیس ایک مرتبہ پھر سیاسی مداخلت، تبادلوں اور انتظامی خودمختاری کے حوالے سے جاری بحث کے مرکز میں ہے۔ بظاہر معاملہ چند ضلعی پولیس افسران (ڈی پی اوز) کے ممکنہ تبادلوں تک محدود دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں جھانکا جائے تو تصویر کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہری نظر آتی ہے۔ سیاسی شخصیات پولیس افسران کے تبادلوں میں دلچسپی کیوں لیتی ہیں، بلکہ ایسے حالات آخر پیدا کیوں ہوتے ہیں جن میں سیاسی مداخلت کے لیے راستے کھل جاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اقتدار سنبھالتے ہی ایک واضح مؤقف اختیار کیا تھا کہ صوبے میں تقرریوں اور تبادلوں کا نظام سفارش، دباؤ اور سیاسی اثرورسوخ کے بجائے میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر استوار کیا جائے گا۔ یہ اعلان نہ صرف پولیس اور بیوروکریسی بلکہ سیاسی حلقوں کے لیے بھی ایک واضح پیغام تھا۔ تاہم زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ بعض اضلاع میں آج بھی پولیس افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں کے معاملات سیاسی گفتگو کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ہر تبادلے کے پیچھے سیاسی مداخلت ہی کارفرما نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انتظامی کمزوریاں، عوامی شکایات، ناقص فیصلہ سازی،افسران کا رویہ اور مقامی سطح پر پیدا ہونے والے تنازعات بھی ایسی صورتحال پیدا کر دیتے ہیں جہاں حکومت کو انتظامی مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ اسی لیے ہر تبادلے کو محض سیاسی عینک سے دیکھنا بھی مناسب نہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کے کم از کم تین اضلاع میں ڈی پی اوز کی تبدیلی کے لیے مختلف سیاسی شخصیات سرگرم ہیں۔ ایک ضلع کے پولیس افسر کا یہ جملہ اس پورے منظرنامے کی بہترین عکاسی کرتا ہے کہ "میرے تبادلے کی کوششوں کے بجائے اگر اپنی پسند کے افسر کی تعیناتی کے لیے اتنی محنت کی جائے تو بار بار لاہور کے چکر نہ لگانے پڑیں۔” یہ ایک جملہ درحقیقت اس کشمکش کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے جو سیاست اور انتظامیہ کے درمیان برسوں سے جاری ہے۔ ہمارے سیاسی کلچر میں منتخب نمائندے اپنے حلقے کے ووٹرز اور سپورٹرز کے مسائل حل کرنے کو سیاسی سرمایہ سمجھتے ہیں۔ جس طرح بعض خاندان شادی بیاہ کی تقریبات میں ملنے والی سلامی کا حساب محفوظ رکھتے ہیں، اسی طرح بعض سیاسی شخصیات بھی حلقے میں کروائے گئے کاموں اور دی گئی سفارشات کا غیر اعلانیہ ریکارڈ رکھتی ہیں۔ انتخابی موسم میں یہی خدمات سیاسی سرمایہ بن جاتی ہیں اور بعض اوقات یہی سرمایہ انتظامی معاملات میں اثرورسوخ کے استعمال کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ نتیجتاً ضلعی پولیس قیادت اکثر دو متضاد ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ ایک طرف قانون کا غیر جانبدارانہ نفاذ اور دوسری جانب مقامی سیاسی حقائق۔ یہی کشمکش بعض اوقات تنازعات کو جنم دیتی ہے۔ گوجرانوالہ ریجن کے ایک ضلع میں تعینات ڈی پی او اور ایک بااثر رکنِ صوبائی اسمبلی کے صاحبزادے کے درمیان مبینہ تلخ کلامی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اگر کسی انتظامی افسر کا مستقبل ذاتی یا سیاسی تنازعے سے متاثر ہونے لگے تو یہ صرف پولیس فورس ہی نہیں بلکہ پورے گورننس سسٹم کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس ضلع کے لیے نئے ڈی پی او کے انتخاب کی صورت میں ایک پینل تشکیل دیا جائے گا، جبکہ بعض حلقے موجودہ ڈی پی او مری رضا تنویر سپرا کو مضبوط امیدوار قرار دے رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ پنجاب پولیس کے افسران سیاسی دباؤ یا اس کے تاثر کی زد میں آئے ہوں۔ گجرات میں سابق ڈی پی او رانا عمر فاروق کے تبادلے کو بھی مختلف حلقوں نے سیاسی عوامل سے جوڑا تھا۔ اب بعض مبصرین موجودہ ڈی پی او اختر فاروق کے بارے میں بھی اسی نوعیت کی قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر کبھی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن ان کا مسلسل زیر بحث رہنا خود اس مسئلے کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب فیصل آباد کی مثال نسبتاً مختلف دکھائی دیتی ہے۔ وہاں بعض سیاسی حلقے آر پی او فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا کی تبدیلی کے خواہاں تھے، تاہم حکومتی فیصلے نے مختلف سمت اختیار کی اور سی پی او صاحبزادہ بلال عمر کا تبادلہ کر دیا گیا۔ اس فیصلے نے یہ پیغام ضرور دیا کہ ہر سیاسی خواہش فوری طور پر حکومتی پالیسی کا حصہ نہیں بنتی۔ فیصل آباد میں سہیل اختر سکھیرا کی پالیسیوں نے انتظامی حلقوں میں خاصی بحث کو جنم دیا۔ انہوں نے کھلی کچہریوں، عوامی رابطوں اور احتسابی نظام کے ذریعے قانون کے یکساں نفاذ کی کوشش کی۔ اس دوران بعض ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں بھی ہوئیں جنہیں ماضی میں ناقابلِ گرفت سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پالیسیوں سے نہ صرف جرائم پیشہ عناصر بلکہ بعض کرپٹ اہلکار بھی دباؤ محسوس کرتے رہے۔ فیصل آباد کے پولیس حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ آر پی او کے احکامات محض کاغذی ہدایات نہیں بلکہ عملی کارروائیوں میں تبدیل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قانون شکن عناصر کے لیے ان کا نام سخت احتساب کی علامت بن چکا ہے۔

    Related Posts

     سموگ کا باعث بننے والے یونٹس کے خلاف کریک ڈائون تیز

    یہ بھارت ہے،نذرانہ نہ دینے پر ڈاکٹر نے 14 سالہ لڑکی کی ٹانگ دوبارہ توڑ دی

    سری لنکا : اولڈ ایج ہوم میں آتشزدگی، 11 افراد ہلاک

    مقبول خبریں

    یہ بھارت ہے،نذرانہ نہ دینے پر ڈاکٹر نے 14 سالہ لڑکی کی ٹانگ دوبارہ توڑ دی

    سری لنکا : اولڈ ایج ہوم میں آتشزدگی، 11 افراد ہلاک

    پنجاب پولیس: میرٹ، مداخلت اور تبادلوں کی سیاست کے درمیان جاری کشمکش

    ایران کے رہبرِ اعلٰی مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں: صدر ٹرمپ

    امریکہ کا 12.5 فیصد تک اضافی ٹیرف لگانے کا منصوبہ، نشانے پربھارت سمیت 60 معیشتیں

    بلاگ

    بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور عوامی بے چینی

    پنجاب پولیس: میرٹ، مداخلت اور تبادلوں کی سیاست کے درمیان جاری کشمکش

    تصویریں دھندلی کیوں تھیں 

    اور اف ہمارے ملک میں یہ پروٹوکول

    جب ویزا، ووٹ سے زیادہ اہم ہو جائے

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.