ریاض+لندن :عالمی منڈی میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بنیادی وجہ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں فوجی کارروائیوں میں شدت اور خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی ہے۔
توانائی کی عالمی منڈیوں میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث پیر کو ابتدائی کاروبار کے دوران تیل کے نرخوں میں 2 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگی حالات کے پھیلنے کے خدشات نے سپلائی چین میں خلل کا ڈر پیدا کر دیا ہے، جس کے براہِ راست اثرات تیل کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اعداد و شمار:
برینٹ خام تیل (Brent Crude): بین الاقوامی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2.16 ڈالر (یعنی 2.37 فیصد) کا نمایاں اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 93.28 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔
امریکی خام تیل (WTI): امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کے فیوچر معاہدے 2.37 ڈالر یعنی 2.71 فیصد بڑھ کر 89.73 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتے دیکھے گئے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں یہ تیزی برقرار رہ سکتی ہے، جو عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا سبب بن سکتی ہے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اب خطے میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت اور عالمی طاقتوں کے ردعمل پر مرکوز ہیں۔

