نئی دہلی : اجلاس میں میزبان ملک انڈیا کے علاوہ برازیل، جنوبی افریقہ، چین، روس، ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت 11 ممالک کے رہنما شرکت کریں گے۔
سعودی عرب بھی اجلاس میں شرکت کرے گا۔ان ممالک کے رہنما کئی اہم معاملات پر تبادلۂ خیال کریں گے، تاہم صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے اثرات ان میں سب سے اہم موضوعات میں شامل ہو سکتے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے ساتھ بات چیت کی۔ بات چیت میں مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے اور دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے لیے لائحہ عمل طے کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ دوسری ملاقات ہے۔چینی صدر شی جن پنگ برکس کے 18ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ہفتے کی صبح نئی دہلی پہنچے۔ اجلاس کے دوران ان کی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ بات چیت متوقع ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘ژنہوا’ کی رپورٹ کے مطابق، شی وزیراعظم مودی کی دعوت پر برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بیجنگ سے ہفتے کے روز روانہ ہوئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کے ہمراہ ان کے قریبی رفقاء کائی چی (کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کے طاقتور پولیٹیکل بیورو کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن اور سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل آفس کے ڈائریکٹر) اور وانگ یی (وزیر خارجہ اور سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن) بھی موجود ہیں۔
دریں اثنا برکس سربراہی اجلاس کے سلسلے میں نئی دہلی پہنچنے والے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ہندوستانی مذہبی نمائندوں، دانشوروں اور کاروباری رہنماؤں کے وفد کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقات کے بعد پریس سے گفتگو کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق نے عالمی استحکام کی اشد ضرورت پر زور دیا۔
میرواعظ عمر فاروق نے جمعہ کے روز امن، سفارت کاری اور انصاف کے لیے پرزور اپیل کی۔ انہوں نے کہا، "امن کا قیام صرف انصاف کے ذریعے ہی ممکن ہے۔”
برکس اجلاس، چینی صدر شی جن پنگ سمیت 11 ممالک کے رہنما انڈیا پہنچ گئے

