واشنگٹن+تہران : وائٹ ہاؤس نے ایران کی سرکاری ٹیلی وژن کی جانب سے جاری کردہ امن معاہدے کے مبینہ مسودے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک "مکمل من گھڑت” کہانی قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ‘ریپڈ رسپانس 47’ (Rapid Response 47) اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ ‘مفاہمت کی یادداشت’ (MOU) کی خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس نے زور دیا کہ کوئی بھی شخص ایرانی سرکاری میڈیا کی جاری کردہ معلومات پر یقین نہ کرے۔
This report from Iranian controlled media is not true and the MOU they “released” is a complete fabrication. Nobody should believe what Iranian state media is putting out. FACTS MATTER. https://t.co/agpTnBSgKu
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) May 27, 2026
دوسری جانب، نائب صدر جے ڈی وینس نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اب بھی ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کے لیے پرامید ہے جو دیرپا ہو۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ امریکی حکومت کی مکمل توجہ ایک ایسے "مضبوط اور قابلِ بھروسہ” معاہدے کے حصول پر ہے جس کی ایران مستقبل میں خلاف ورزی نہ کر سکے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسے تہران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کا ایک ابتدائی اور غیر سرکاری مسودہ موصول ہوا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے امریکا کے ساتھ امن کے لیے ایک نیا مسودہ تیار کیا ہے۔ تاہم ‘فاکس نیوز’ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس مبینہ تجویزی مسودے میں کئی ایسے مطالبات شامل تھے جو امریکی "ریڈ لائنز” (Red Lines) کے منافی ہیں۔ ان مطالبات میں ایران کے جوہری پروگرام اور مستقبل میں نفاذ کے اقدامات کے علاوہ، ایران کے منجمد شدہ 20 ارب ڈالر کے فنڈز فوری ریلیز کئے جانے جیسی شرائط شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس ممکنہ مفاہمت کے تحت ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت کو جنگ سے پہلے والی سطح پر بحال کرے گا۔ اس کے بدلے میں امریکا ایران کے اطراف میں تعینات اپنی فوجی موجودگی ختم کرے گا اور بحری ناکہ بندی بھی اٹھا لے گا۔
اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جہازوں کے راستوں کے انتظام کے لیے ایران اور عمان کے ساتھ ہم آہنگی کی جائے گی۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ میں خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی سلامتی کے نائب سربراہ، علی باقری کنی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایک نئے طریقہ کار پر مشترکہ مذاکرات کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرنے کے شرائط اور طریقہ کار ایران سے متعلق تنازع سے پہلے کی صورتحال سے مکمل طور پر مختلف ہوں گے۔
علی باقری کنی نے مزید کہا کہ ’جب تک ہم تمام مسائل پر اتفاق نہیں کر لیتے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی معاملے پر اتفاق نہیں ہوا۔‘
۔

