واشنگٹن ڈی سی "امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ’ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے‘ اور ’ہم ابھی اس سے مطمئن نہیں ہیں، لیکن (یہ کامیاب) ہو جائیں گے۔‘
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’یا تو یہ اسی طریقے سے حل ہو جائے گا، یا پھر ہمیں اسے ختم کرنا پڑے گا۔‘
ایرانی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’وہ کمزوری کی پوزیشن سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ لیکن دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ ممکن ہے ہمیں واپس جا کر معاملہ مکمل کرنا پڑے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ نہ کرنا پڑے۔‘
انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ان کے خیال میں ایران کی قیادت ’معاہدہ کرنے کے لیے بہت زیادہ تیار ہے۔سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اب بہت زیادہ کمزور ہو چکا ہے اور وہ کسی بھی صورت میں امریکہ کے ساتھ ایک ڈیل (معاہدہ) کرنا چاہتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت "خالی ہاتھوں” (negotiating on fumes) مذاکرات کی میز پر ہے اور وہ امریکہ کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے بے تاب ہے۔ ٹرمپ نے کہا، "ابھی تک وہ اس مقام تک نہیں پہنچے جس کے ہم خواہاں ہیں، ہم ان کی موجودہ پیشکش سے مطمئن نہیں ہیں، لیکن جلد ہی ہوں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
Their Navy is gone, their Air Force is gone. Iran is negotiating on fumes. pic.twitter.com/6Zem8wYB4F
— The White House (@WhiteHouse) May 27, 2026
انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں اس وقت ایسا لگتا ہے کہ وہ (ایرانی) صرف معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، میرے خیال میں ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’آپریشن ایپک فیوری کے دوران ہم نے واضح کر دیا تھا کہ دنیا کا سب سے بڑا ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کرنے والا ملک جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔‘
سابق صدر نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مکمل طور پر تباہ شدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ "میں ہزاروں بار کہہ چکا ہوں کہ ان کی بحریہ ختم ہو چکی ہے، ان کی فضائیہ کا کوئی وجود نہیں رہا، غرض سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔” ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے میں مزید کہا کہ اگر ایران ان کے مطالبات کے مطابق کوئی معاہدہ نہیں کرتا، تو امریکہ کے پاس "کام کو مکمل کرنے” کے سوا کوئی چارہ نہیں بچے گا۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور ایران کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں امریکی حکام کی جانب سے مسلسل دعوے کیے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنی شرائط پر ہی ایران کے ساتھ معاملات طے کرے گا، بصورتِ دیگر تہران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

