نوشھروفیروز ۔ رپورٹ ( رجب علی سمون )
بلوچستان سے سندھ کے رہائشی سعید احمد میمن کے مبینہ اغوا کے خلاف اہلِ خانہ، دوستوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے حکومتِ پاکستان، حکومتِ سندھ اور حکومتِ بلوچستان سے ان کی فوری اور محفوظ بازیابی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اہلِ خانہ کے مطابق 17 مئی کو سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سندھ اور سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالحمید میمن کے بھائی سعید احمد میمن کوئٹہ سے اپنے بیٹے مصور احمد میمن اور دوست عماد کے ہمراہ کراچی واپس آ رہے تھے کہ ضلع سوراب بلوچستان کے زہری ناکہ کے قریب مسلح افراد نے ان کی گاڑی روک کر سعید احمد میمن کو اغوا کر لیا۔واقعے کے دوران مصور احمد میمن اور عماد مبینہ طور پر اغوا کاروں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور سوراب تھانے پہنچ کر واقعے کی اطلاع دی۔اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ واقعے کو 48 گھنٹے سے زائد گزر چکے ہیں، تاہم حکومتِ سندھ، حکومتِ بلوچستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تاحال کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی، جبکہ متعلقہ ادارے اس واقعے سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔سعید احمد میمن کے عزیز و اقارب، دوستوں اور سماجی حلقوں نے وزیرِاعظم پاکستان ، وزیراعلی سندہ وزیر داخلہ سندہ وزیر اعلی بلوچستان، سمیت سندھ اور بلوچستان کی سیاسی، سماجی اور ادبی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ سعید احمد میمن کی محفوظ بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کی رہائی کے لیے آواز بلند کی جائے۔

