تحریر : ڈاکٹرمحمد داؤد
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے جمہوریہ کانگو (DRC) اور یوگنڈا میں ایبولا کے پھیلاؤ کو عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، “بین الاقوامی تشویش کی عوامی صحت کی ایمرجنسی” (Public Health Emergency of International Concern – PHEIC) قرار دے دیا ہے۔ یہ عالمی سطح پر انتباہ کی وہ درجہ بندی ہے جو وبائی مرض (pandemic) سے ایک درجہ کم سمجھی جاتی ہے۔ اب تک 300 سے زائد مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں تقریباً 88 اموات شامل ہیں۔ زیادہ تر کیسز جمہوریہ کانگو میں سامنے آئے ہیں جبکہ یوگنڈا میں چند کیسز سرحد پار ابتدائی پھیلاؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس وباء کی وجہ ایبولا وائرس کی بندیبوجیو (Bundibugyo) قسم ہے، جو نسبتاً کم پائی جانے والی قسم ہے اور اس کے خلاف نہ تو کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص ہدفی علاج، جس کے باعث اس پر قابو پانے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے بین الاقوامی سطح پر اس کے پھیلنے کے خدشات کا اظہار کیا ہے، تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال ابھی وبائی مرض کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔ اس کے باوجود مؤثر نگرانی اور ردعمل میں متعدد رکاوٹیں حائل ہیں، جن میں کمزور صحت کا نظام، تنازعات سے متاثرہ علاقے، اور کیسز کی ممکنہ کم رپورٹنگ شامل ہیں۔ اسی لیے WHO نے فوری بین الاقوامی تعاون، نگرانی میں بہتری، کیسز کی جلد تشخیص، مریضوں کو علیحدہ رکھنے، اور رابطوں کی مؤثر ٹریسنگ پر زور دیا ہے۔ ادارے نے اس امر پر بھی تاکید کی ہے کہ ابتدائی مرحلے میں وباء کو قابو کرنے کے لیے ادویاتی علاج سے زیادہ عوامی صحت کے اقدامات کلیدی کردار ادا کریں گے۔ یہ وباء دراصل عالمی تیاری اور ردعمل کے نظام کے لیے ایک اہم امتحان بن چکی ہے۔