حاجی فضل محمود انجم
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔وہیں سے سچ کا آغازہوتاہے

ہم سب اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں اس بناء پر کہ وطن سے محبت کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔جس ملک کے حصول کیلئے لاکھوں شہیدوں کا خون شامل ہو اس سے ہم محبت کیوں نہ کریں؟ جس ملک کو بنانے کی خاطر ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں نے اپنی عصمتوں کے نذرانے پیش کئے ہوں اس سے ہم محبت کیوں نہ کریں؟ جس کی خاطر نھنھے نھنھے بچوں نے اپنی جانوں کو قربان کر دیا ہو ہم اس سے محبت کیوں نہ کریں؟۔ جس کی خاطر ماؤں نے اپنے لخت جگر شہید کروا دیئے ہوں۔ اس وطن سے ہم محبت کیوں نہ کریں ؟ جس کی خاطر سہاگنوں نے اپنے سہاگ قربان کر دیئے ہوں۔ اس وطن سے ہم محبت کیوں نہ کریں۔ہم نے یہی سوال اپنے کچھ دوستوں کے سامنے رکھا تو جواب کچھ یوں تھا:
میڈم مریم مغل کا کہنا تھا کہ:
"یہ وطن تمہارا ہے۔۔۔۔۔۔۔تم ہو پاسباں اس کے”
"یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے”
وطن صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا بلکہ انسان کی پہچان، عزت اور احساسِ وابستگی کا سب سے خوبصورت نام ہوتا ہے۔ انسان دنیا کے کسی بھی کونے میں چلا جائے، اُس کے دل میں اپنے وطن کی محبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وطن کا ذکر آتا ہے تو دل عقیدت اور محبت سے بھر جاتا ہے۔ میں بھی اپنے وطن پاکستان سے بے حد محبت کرتی ہوں، کیونکہ یہی وہ سرزمین ہے جہاں میری پہلی سانس جڑی، جہاں میرے خواب پروان چڑھے اور جہاں میری یادوں کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔
اپنے وطن کی مٹی سے محبت ایک فطری جذبہ ہے۔ بچپن کی گلیاں، اپنے لوگ، اپنے اسکول، اپنے تہوار اور اپنی زبان انسان کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ وطن کی ہوا میں ایک عجیب سا سکون ہوتا ہے جو کہیں اور محسوس نہیں ہوتا۔ شاید اسی لیے پردیس میں رہنے والے لوگ بھی اپنے وطن کی مٹی کو یاد کر کے آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔
آزادی کسی بھی قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ہمارا پاکستان بھی لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا۔ ہمارے بزرگوں نے اپنا سب کچھ قربان کر کے ہمیں ایک آزاد وطن دیا تاکہ ہم عزت اور سکون کی زندگی گزار سکیں۔ آج اگر ہم آزادی کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں تو اس کے پیچھے شہداء کی عظیم قربانیاں شامل ہیں۔ وطن سے محبت صرف جذبات نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے کردار، محنت اور اچھے اخلاق سے اپنے وطن کی ترقی میں حصہ ڈالیں۔ کیونکہ وطن سے محبت ایمان، فرض اور فخر کی علامت ہے، اور میرا پاکستان میرا فخر ہے۔
محترمہ مشی خان کا کہنا تھا کہ
وطن انسان کی زندگی کا سب سے خوبصورت رشتہ ہوتا ہے۔ جس زمین پر انسان پیدا ہوتا ہے، کھیلتا کودتا ہے اور اپنے خواب سجاتا ہے، وہی اس کا وطن کہلاتا ہے۔ وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ انسان کی پہچان، عزت اور فخر ہوتا ہے۔ اسی لیے ہر انسان کے دل میں اپنے وطن کے لیے محبت فطری طور پر موجود ہوتی ہے۔پاکستان ہمیں اپنے آباؤاجداد کی بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہوا۔ آزاد مملکت کے حصول کی خاطر لاکھوں مسلمانوں نے نہ صرف اپنے گھر بار چھوڑے، ہجرت کی تکلیفیں برداشت کیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ، علامہ اقبالؒ اور دیگر عظیم رہنماؤں کی دن رات محنت اور آزادی کے متوالوں نے اپنا جان ومال قربان کرکے ایک تاریخ مقررکی اور مسلمانوں کو ایک آزاد وطن دلایا۔ اس وطن کی مٹی میں شہیدوں کا لہو شامل ہے، اس لیے اس سے محبت کرنا ہمارا فرض ہے۔
جب انسان دنیا کے کسی بھی کونے میں جاتا ہے تو اس کی پہچان اس کا مادری وطن ہی بنتا ہے۔ وطن عزیز سے محبت صرف نعرے لگانے کا نام نہیں بلکہ اپنے آباؤاجداد کی بے مثال قربانیوں کو یاد رکھنا اصل حب الوطنی ہے۔ پاکستان اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور ہمارے بزرگوں کی امانت ہے۔14اگست کو جشن آزادے کے ساتھ ساتھ ان قربانیوں کو بھی یاد رکھا جائے جن کو وجہ سے آج ہم دنیا بھر میں زندہ قوم کی مثال کہلاتے ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت ہجرت کرنے والوں کی جدو جہد پر نظر دوڑائیں تو ایک ہی فقرہ محب وطن ہونے کیلئے کافی ہے کہ میں اپنے وطن سے محبت کیوں نہ کروں۔!
میڈم نایاب بنت خالد محمود کا کہنا تھا کہ:
وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے۔ وہ وطن جہاں انسان پیدا ہوا ہو؛ جہاں اس نے پہلی سانس لی ہو؛ جس سر زمین کی خوشبودار ہوا کو محسوس کیا ہو؛ جہاں کی مٹی میں کھیل کر جوان ہوا ہو؛ اور جس مٹی سے اس کی خوشی اور غمی وابستہ ہو؛ وہاں اپنے پیارے بستے ہوں، تو پھر ہم اپنے وطن سے محبت کیوں نہ کریں؟وہ وطن جہاں کے رسم و رواج اپنے ہوں؛ جہاں خوشی اور غمی میں سب ایک دوسرے کے ساتھ ہوں؛ جہاں اچھے برے حالات میں اپنے لوگ ساتھ کھڑے ہوں۔ سب سے بڑھ کر وہ وطن جہاں ہمارے آباؤ اجداد نے زندگی گزاری ہو۔ جہاں ہمارے ماں باپ نے ہمیں جینا سکھایا ہو؛ اور جہاں ہم نے دنیا کو پہچاننا سیکھا ہو؛ آخر ہم اس سے محبت کرنا کیوں چھوڑیں؟اس لیے ہمیں چاہیے کہ مرتے دم تک اپنے وطن سے محبت کریں۔ چاہے ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں؛ اپنے وطن سے محبت کبھی نہ چھوڑیں۔ اور چھوڑیں بھی کیوں؟ یہی وہ وطن ہے جس کی سر زمین پر ہم مسلمان گھرانے میں عزت و احترام؛ امن و سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
میڈم شبیہ فاطمہ نے کچھ یوں کہا کہ:
انسان جس سرزمین کی کوکھ میں جنم لیتا ہے، پرورش پاتا ہے اور زندگی کے دن گزارتا ہے تو اس نسبت کی بنا پر اسے اس خاک سے طبعی محبت ہوتی ہے۔ یہ ایک فطری جذبہ ہے۔ ہمارے پیارے وطن پاکستان کی بنیادوں میں لاکھوں انسانوں کے خون کی سرخی ہے، اس میں لاکھوں عظمتوں کی پکار ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اسے اپنی قیمتی جانوں کا نظرانہ دے کر حاصل کیا تھا تاکہ ہم اپنی مذہبی اور ثقاتی روایت کے مطابق آزادی سے زندگی بسر کر سکیں۔ پاکستان کو خداوند کریم نے ہر نعمت سے نوازا ہے۔ اس میں معدنی دولت کے خزینے دفن ہیں، اس کے باشندے محنتی اور جفا کش ہیں، افواج دلیر اور بہادر ہیں، اس کے دریا برقی توانائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ اس کے بلند و بالا پہاڑ اس کا حصار ہیں، اس کی وادیاں فطرت کے مناظر ہیں اور اس کے کوہسار رنگینیوں کا پیکر ہیں۔ اس کے لہلاتے ہوئے کھیت سونا اگل رہے ہیں، اس کے مزدور محنت کا شاہکار ہیں، اس کے علما اور فضلہ علم کا معیار ہیں اور اس کی تجارت خوشحالی کی ضامن ہے۔
پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اس کا قیام اسلام کی بنیاد پر ہوا۔ پاکستانی ہمارا گہوارہ ہے، اسی کی خدمت میں ہماری عظمت، حفاظت میں ہماری کامیابی ہے۔ اس کی سرحدوں کی حفاظت ہمارا ایمان اور اس پر قربان ہونا شہادت ہے یہی ہماری شناخت، یہی ہماری آبرو ہے پھر مجھے اس سے محبت کیوں نہ ہو؟ اس نے اپنی آغوش عاطفیت میں مجھے پروان چڑھایا، میں اس کے جسم کا حصہ ہوں، اس کی خدمت میری عظمت اس کی حفاظت میری نصرت ہے۔ میرا وطن میری ماں کی گود ہے پھر میں اپنے وطن سے محبت کیوں نہ کروں؟ مولائے کائنات نے جذبہ حب الوطنی انسان کی فطرت میں ودیعت کر رکھا ہے۔ یہ پاکیزہ جذبہ ہر اچھے شہری میں ہوتا ہے اور یہ عقیدہ میرا جزو ایمان ہے میں اپنے وطن کی بے لوث خدمت کرنے کی متمنی ہوں۔

