واشنگٹن: (نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ڈیل کے سلسلے میں تہران کو کسی قسم کی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، امریکی کوششوں پر ایران کے حالیہ ردعمل کے بعد، صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ رعایتیں دینے کے لیے "اوپن” (تیار) نہیں ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ تہران کے رویے سے "مایوس” ہیں، تو انہوں نے نفی میں جواب دیا، تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ ایران مزید امریکی کارروائی کے خطرے کو سمجھتا ہے۔
دوسری طرف : ‘ایکزیوس’ کی رپورٹ کے مطابق، ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی تازہ ترین تجویز میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی اور یہ کسی معاہدے کے لیے نا کافی ہے۔ امریکی اہلکار کے مطابق، اگر ایران نے اپنا موقف نہ بدلا تو امریکا کو ‘بموں کے ذریعے’ مذاکرات جاری رکھنے پڑیں گے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا، "میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ وہ (ایرانی) پہلے سے کہیں زیادہ ڈیل کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہم—جلد کیا ہونے والا ہے۔”
ماضی میں اپنی اس تجویز کے بارے میں پوچھے جانے پر کہ کیا وہ ایرانی یورینیم کی افزودگی پر 20 سالہ پابندی قبول کر سکتے ہیں، ٹرمپ نے کہا: "میں اس وقت کسی بھی چیز کے لیے تیار نہیں ہوں۔” انہوں نے اس کی مزید وضاحت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا، "میں واقعی آپ سے اس بارے میں بات نہیں کر سکتا۔ بہت سی چیزیں ہو رہی ہیں۔”
رپورٹ کے مطابق، چین سے واپسی کے بعد صدر ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں ورجینیا میں اپنے گولف کلب میں اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کیے، جبکہ منگل کو مزید ملاقاتیں متوقع ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کچھ اتحادی ان پر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
ان دعوؤں کے بارے میں پوچھے جانے پر کہ ایران جوہری مسئلے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے واشنگٹن کو تھکانے یا وقت گزارنے کی کوشش کر رہا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے "یہ نہیں سنا۔”
انہوں نے کہا، "میں کچھ نہیں سن رہا ہوں، میں آپ سے اس بارے میں بات نہیں کر سکتا۔”صدر ٹرمپ نے مزید کہا، "یہ ایک مذاکرات (Negotiation) ہیں۔ میں بیوقوف نہیں بننا چاہتا۔”
نئی تجاویز بھی مسترد،ایران کو کوئی رعایت نہیں دیں گے، وہ جانتے ہیں جلد کیا ہونے والا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

