تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پاکستانی بیوروکریسی اور پولیس سروس میں ایسے مواقع کم ہی آتے ہیں جب کسی افسر کی قیادت صرف فائلوں، اجلاسوں یا احکامات تک محدود نہ رہے بلکہ وہ اپنی فورس کے لیے عملی طور پر ایک “ڈھال” بن کر سامنے آئے۔ حالیہ پرموشن بورڈ کے بعد ملک بھر میں پولیس افسران کے حلقوں میں ایک ہی نام زیرِ بحث ہے علی ناصر رضوی جنہوں نے نہ صرف اپنی فورس کے افسران کے لیے بھرپور مؤقف اختیار کیا بلکہ ایک ایسی مثال قائم کی جس نے دوسرے صوبوں کے پولیس سربراہان کو بھی حیران کر دیا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ اسلام آباد پولیس کے آئی جی کو پرموشن بورڈ میں بطور مستقل نمائندہ شامل کیا گیا۔ ماضی میں یہ فورم عموماً صوبائی آئی جیز اور چیف سیکرٹریز تک محدود رہتا تھا، مگر اس بار علی ناصر رضوی کی شمولیت نے اس بات کو واضح کیا کہ ادارہ جاتی نمائندگی صرف رسمی نہیں بلکہ مؤثر بھی ہو سکتی ہے۔ اصل فرق وہاں نمایاں ہوا جہاں اکثر افسران خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یا مخالفت کرتے ہیں ۔ اسلام آباد پولیس سے تعلق رکھنے والے چار افسران سرفراز ورک، عثمان بٹ، جمیل ظفر اور ذیشان نقوی کی پرموشن کے معاملے میں آئی جی اسلام آباد نے نہ صرف کھل کر مؤقف اپنایا بلکہ بورڈ میں ان کے حق میں مؤثر انداز میں دلائل بھی دیے۔ اس موقع پر آئی جی۔خیبر پختونخواہ ذوالفقار حمید کی جانب سے اس مؤقف کی حمایت نے بھی معاملے کو مضبوط بنایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چاروں افسران کی پرموشن ممکن ہوئی اور فورس کے اندر یہ پیغام گیا کہ قیادت اگر چاہے تو ماتحتوں کے حقوق کے لیے دیوار بن سکتی ہے۔ دوسری جانب وہ افسران بھی تھے جن کی پرموشن نہ ہو سکی۔ حیران کن بات یہ رہی کہ ان کے خلاف کوئی واضح منفی رپورٹ یا محکمانہ رکاوٹ سامنے نہیں آئی۔ خود ایک آئی جی کی جانب سے افسران کی جانب سے رسمی۔شکایت پر یہ اعتراف سامنے آیا کہ ان کی “کابینہ” کے بعض افسران نے غلط رہنمائی کی، جس کے باعث اہل افسران نظر انداز ہوئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دو قیادتوں کا فرق نمایاں ہو جاتا ہے۔ ایک طرف ایسا کمانڈر تھا جو اپنے ماتحتوں کے لیے بورڈ روم میں لڑ رہا تھا، جبکہ دوسری طرف ایسے افسران بھی تھے جو بعد میں وضاحتیں دیتے دکھائی دیے۔ پولیس فورس میں سب سے بڑی کرنسی “اعتماد” ہوتی ہے۔ ماتحت یہ نہیں دیکھتے کہ ان کا سربراہ کتنی پریس کانفرنسیں کرتا ہے، بلکہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ مشکل وقت میں کون ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پرموشن بورڈ کے بعد ملک بھر میں پولیس افسران کے درمیان یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ آخر ماتحت اپنے سربراہ کے بارے میں کیا رائے قائم کریں؟ وہ جو ان کے لیے لڑا، یا وہ جو خاموش رہا؟
اسی بحث کو اس وقت مزید تقویت ملی جب ڈان اخبار کے سنئیر صحافی آصف چوہدری نے اس معاملے پر خبر بریک کی۔ اس رپورٹ نے پولیس حلقوں میں ہلچل مچا دی اور کئی افسران کو پہلی بار اندازہ ہوا کہ ادارے کے اندر ہونے والے فیصلے کس قدر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ بعد ازاں متاثرہ افسران کو یقین دہانیاں تو کروائی گئیں کہ آئندہ بورڈ میں ان کی پرموشن ہو جائے گی، مگر سب کے دماغ میں ایک ہی سوال ہے کہ اگر افسر اہل تھا تو اسے پہلے کیوں روکا گیا؟
قیادت صرف پرموشن بورڈ تک محدود نہیں رہی۔ اسلام آباد پولیس کے تقریباً 11 ہزار افسران و اہلکاروں کو آدھی تنخواہ بطور عیدی دینا بھی ایک غیر معمولی اقدام تھا۔ ایسے وقت میں جب ملک کے بیشتر سرکاری ملازمین معاشی دباؤ کا شکار ہیں، اس فیصلے نے نہ صرف فورس کا مورال بلند کیا بلکہ یہ احساس بھی دیا کہ ادارے کی قیادت اپنے لوگوں کی مشکلات سے باخبر ہے۔ کم از کم حالیہ برسوں میں کسی دوسرے صوبے سے ایسی مثال سامنے نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسلام آباد پولیس کے اندر علی ناصر رضوی کے لیے ایک مختلف نوعیت کا احترام پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب بعض افسران مسلسل اس سیٹ کے حصول کے لیے سرگرم دکھائی دیتے ہیں، سازشوں اور لابنگ کے ذریعے طاقت کے کھیل کا حصہ بننے کی کوشش کرتے ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ فورس ہمیشہ اُس افسر کو یاد رکھتی ہے جو ان کے حقوق، عزت اور مستقبل کے لیے کھڑا ہو۔ پولیس جیسے سخت اور دباؤ والے ادارے میں قیادت کا اصل امتحان وردی پہننے میں نہیں بلکہ وردی والوں کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہوتا ہے۔ حالیہ واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ ہر آئی جی ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ صرف عہدہ سنبھالتے ہیں، جبکہ کچھ تاریخ میں مثال بن جاتے ہیں۔


