اسلام آباد: حکومتِ پاکستان کی جانب سے نئی آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی (AIDEP) 2026-31 کے تحت ملک میں گاڑیوں کی ایک نئی کیٹیگری ‘L6/L7’ متعارف کروانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد موٹر سائیکل سواروں اور کم آمدنی والے طبقے کو سستی، آرام دہ اور محفوظ سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔
مجوزہ پالیسی کے مطابق، یہ نئی کیٹیگری پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں تھری وہیلرز (رکشوں) اور 660cc کی انٹری لیول گاڑیوں کے درمیان موجود بڑے فرق کو ختم کرے گی۔یہ منصوبہ خاص طور پر ان متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے ہے جو موٹر سائیکل سے چار پہیوں والی سواری پر منتقل ہونا چاہتے ہیں لیکن موجودہ کاروں کی آسمان چھوتی قیمتوں کی وجہ سے ایسا نہیں کر پا رہے۔
ڈیزائن: L6/L7 گاڑیاں سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور ایندھن بچانے والی (Fuel-efficient) ہوں گی، جنہیں خاص طور پر شہری علاقوں میں آمد و رفت کے لیے موزوں بنایا جائے گا۔
مقامی صنعت اور معیشت پر اثرات
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نئے سیگمنٹ کے متعارف ہونے سے پاکستان میں چھوٹی گاڑیوں کے مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم میں نئی سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے اس سے مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری (Localization) کو فروغ ملےگا چھوٹی اور سمارٹ گاڑیاں شہروں میں بڑھتے ہوئے ٹریفک اور پارکنگ کے مسائل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اس نئی کیٹیگری کی شمولیت سے معیشت کو مزید منظم اور دستاویزی (Documentation) بنانے میں مدد ملے گی۔
اضح رہے کہ یہ تجویز فی الوقت آئندہ آٹو پالیسی کے ڈرافٹ کا حصہ ہے اور اس پر حتمی مشاورت جاری ہے۔ ابھی تک حکومت کی جانب سے اس کی باقاعدہ منظوری نہیں دی گئی، تاہم اسے پاکستان میں "افورڈ ایبل موبلٹی” (سستی سفری سہولت) کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اگر یہ پالیسی منظور ہو جاتی ہے تو پاکستان کی سڑکوں پر جلد ہی ایسی چار پہیوں والی گاڑیاں نظر آئیں گی جو قیمت میں ایک عام آدمی کی پہنچ میں ہوں گی۔

