واشنگٹن ڈی سی / اسلام آباد:بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کی معاشی اصلاحات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ‘ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلیٹی’ (EFF) اور ‘ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلیٹی’ (RSF) کے جائزوں کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کو فوری طور پر تقریباً 1.32 ارب ڈالر تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔
واشنگٹن میں منعقدہ بورڈ اجلاس کے اعلامیے کے مطابق، ای ایف ایف کے تحت 1.1 ارب ڈالر جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے پروگرام (RSF) کے تحت 220 ملین ڈالر جاری کیے جائیں گے۔ ان فنڈز کی وصولی کے بعد موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کو ملنے والی مجموعی رقم 4.8 ارب ڈالر ہو جائے گی۔
آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک نے پاکستانی معیشت میں آنے والی بہتری کو سراہتے ہوئے کہا کہ:
"پاکستان نے معاشی استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں مالی سال 2026 کے ابتدائی نو ماہ میں جی ڈی پی کی شرح نمو میں تیزی دیکھی گئی اور مہنگائی کے دباؤ میں کمی آئی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ مشکل عالمی حالات اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باوجود پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ متوازن رہا ہے، جو کہ حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کی علامت ہے۔
پروگرام کی اہم ترجیحات اور مستقبل کا روڈ میپ
آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ پاکستان کو درمیانی مدت میں پائیدار ترقی کے حصول کے لیے درج ذیل شعبوں پر توجہ برقرار رکھنی ہوگی:
ٹیکس نیٹ میں اضافہ: مستقل بنیادوں پر ٹیکسوں کی وصولی کو بہتر بنانا اور ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنا۔
توانائی اور سرکاری ادارے: توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور سرکاری اداروں (SOEs) کی کارکردگی میں بہتری لانا۔
سماجی تحفظ: صحت، تعلیم اور غریب طبقے کے لیے سماجی امداد کے پروگراموں میں سرمایہ کاری بڑھانا۔
مانیٹری پالیسی: مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اسٹیٹ بینک کی جانب سے سخت مانیٹری پالیسی کا تسلسل اور شرحِ مبادلہ میں لچک برقرار رکھنا۔
موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات (RSF)
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ 28 ماہ پر محیط آر ایس ایف معاہدے کا مقصد پاکستان کو قدرتی آفات کے خلاف مضبوط بنانا ہے۔ اس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی، پانی کے وسائل کا منصفانہ استعمال، اور کارپوریٹ سیکٹر میں موسمیاتی خطرات کی نشاندہی شامل ہے تاکہ ماحولیاتی اثرات سے ہونے والے معاشی نقصانات کو کم کیا جا سکے۔
آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ مالی سال 2026 اور 2027 کے مالیاتی اہداف پر قائم رہنا پاکستان کی ساکھ اور معاشی پائیداری کے لیے ناگزیر ہے۔

