تہران +واشنگٹن ڈی سی :ایران نے امریکا پر 7 اپریل کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جب آبنائے ہرمز میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایران نے گذشتہ شب ہونے والے واقعے کو اپنی مسلح افواج اور ’دشمن‘ کے درمیان فائرنگ کے تبادلے سے تعبیر کیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بندرعباس کے قریب متعدد دھماکے سنے گئے، جب کہ خلیج فارس کے سب سے بڑے جزیرے قشم میں واقع ایک گھاٹ کے تجارتی حصوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی گئی۔
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی طرف جانے والے ایک ایرانی آئل ٹینکر کے ساتھ ساتھ فجیرہ کی بندرگاہ کے قریب ایک اور جہاز کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے ’فوری طور پر جوابی کارروائی‘ کی اور امریکی فوجی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس سے ’کافی نقصان‘ ہوا۔
کئی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سننے کے باوجود، ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک رپورٹر نے کہا، ’زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔‘
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ آبنائے میں تین امریکی تباہ کن جہازوں پر حملہ کیا گیا تاہم انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی ’جارحیت پسندوں‘ کو ’بہت نقصان‘ پہنچایا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اے بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں فائرنگ کے تبادلے کو ’ایک چھوٹا دوستانہ دھچکا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر جنگ بندی اور امریکی پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔
ٹرمپ کے ریمارکس سے پہلے، امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی افواج نے ’بلا اشتعال‘ ایرانی حملوں کو روکا اور اپنے دفاع میں جواب دیا جب گائیڈڈ میزائل تباہ کرنے والے جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔ سینٹکام نے مزید کہا کہ کسی امریکی آلات یا اہلکار کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
سینٹکام نے زور دیا کہ وہ کشیدگی کو بڑھانے کی کوشش نہیں کرتا، لیکن امریکی افواج کی حفاظت کے لیے ’مکمل الرٹ‘ پر رہتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ’جلد ختم ہو جائے گی‘ اور وہ ایران کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمت کی یادداشت کو آگے بڑھانے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

