نیویارک: فیشن کی دنیا کے سب سے بڑے میلے ‘میٹ گالا 2026’ میں ایشا امبانی نے انڈین ثقافت اور بے پناہ دولت کا ایسا امتزاج پیش کیا کہ عالمی میڈیا کی نظریں ان پر تھم گئیں۔ ایشا امبانی نے اس موقع پر محض ایک لباس نہیں بلکہ ‘تاریخ اور فن کا شاہکار’ زیب تن کیا ہوا تھا، جس کی چمک نے نیویارک کی شام کو مزید درخشاں کر دیا۔
خالص سونے کی ساڑھی
ایشا امبانی کا یہ سحر انگیز لباس معروف ڈیزائنر گورو گپتا نے تیار کیا تھا، جسے نامور سٹائلسٹ انیتا شراف اداجانیہ نے فائنل لک دی۔ اس ساڑھی نما لباس کی خاص بات اس میں استعمال ہونے والے خالص سونے کے دھاگے تھے۔
اس شاہکار کو تیار کرنے میں 50 سے زائد ماہر کاریگروں نے 1200 گھنٹے تک دن رات کام کیا۔
اسے ایک ‘زندہ کینوس’ کے طور پر ڈیزائن کیا گیا، جس میں قدیم انڈین فریسکو (نقاشی) کے اثرات کو جدید ڈیزائن کے ساتھ یکجا کیا گیا۔
بلاؤز پر سجے نظامِ حیدرآباد کے تاریخی ہیرے
اس لباس کی سب سے زیادہ چرچا ہونے والی چیز وہ زیورات تھے جو ایشا نے زیب تن کیے۔ یہ جواہرات محض زیور نہیں بلکہ تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔
یہ بیش قیمت ہیرے اور جواہرات کبھی نظام آف حیدرآباد کے ذاتی خزانے کی زینت ہوا کرتے تھے۔
ان تاریخی نوادرات کو بعد میں امبانی خاندان نے دنیا بھر کے مختلف جوہریوں سے خرید کر اپنی والدہ نیتا امبانی کے نجی مجموعے کا حصہ بنایا۔
ایشا امبانی نے ان تاریخی ہیروں کو اپنے بلاؤز اور زیورات میں اس مہارت سے استعمال کیا کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔
میٹ گالا 2026 میں ایشا امبانی کی شرکت نے یہ ثابت کر دیا کہ ساڑھی محض ایک روایتی پوشاک نہیں بلکہ ایک لازوال فن ہے جو ہر دور میں اپنی جگہ بنانا جانتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایشا امبانی کی تصاویر وائرل ہوتے ہی فیشن کے دلدادہ افراد انہیں ‘ماڈرن انڈین رائلٹی’ قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایشا امبانی نے عالمی سطح پر نہ صرف اپنی موجودگی درج کرائی بلکہ انڈین دستکاری اور تاریخی ورثے کو اس طرح پیش کیا کہ دنیا بھر کے ڈیزائنرز ان کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے۔

