بیجنگ +تہران+واشنگٹن :ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران کسی بھی صورت میں صرف ایک ”منصفانہ اور جامع معاہدے” کو ہی قبول کرے گا۔یہ بات انہوں نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔
عراقچی نے اس موقع پر چین کو ایران کا قریبی دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا۔
عراقچی نے یہ بھی کہا کہ امریکا کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، ایران مذاکرات کے دوران اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔
دوسری جانب چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ بیجنگ کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست مذاکرات انتہائی ضروری ہیں کیونکہ خطہ ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔
وانگ یی نے ملاقات کے دوران کہا کہ چین اس جاری جنگ پر گہری تشویش رکھتا ہے اور فوری و مکمل جنگ بندی کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔
ان کے مطابق لڑائی کا جاری رہنا قابلِ قبول نہیں، جبکہ بات چیت اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا نہایت اہم ہے۔
انہوں نے امریکا اور ایران پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد آبنائے ہرمز کو کھولیں تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو اور عالمی برادری کی ”محفوظ آمد و رفت” کی اپیلوں کا احترام کیا جائے۔
چینی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے منصوبے چلانے کا جائز حق حاصل ہے۔یہ ملاقات بیجنگ میں ہوئی، جس کی تصدیق چینی خبر ایجنسی شِنہوا نے کی، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق عراقچی اس ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی و عالمی صورتحال پر بات چیت کے لیے گئے تھے۔یہ عراقچی کا چین کا پہلا دورہ ہے جو 28 فروری کو ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد ہوا ہے۔
چین ایران کا بڑا تیل خریدار ہے اور امریکی پابندیوں کے باوجود تہران سے توانائی حاصل کرتا رہا ہے، جس سے امریکا کی کوششوں کو چیلنج درپیش ہے۔
ایران صرف منصفانہ اور جامع معاہدے کو قبول کرے گا، عباس عراقچی کی چینی ہم منصب سے ملاقات

