تہران +نیویارک :اگرچہ ایک طرف امن کی باتیں ہو رہی ہیں، وہیں دوسری طرف فٹ بال کا میدان سیاسی اکھاڑہ بن چکا ہے۔ ایرانی فٹ بال چیف مہدی تاج نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی "توہین” نہ کرنے کی ضمانت نہ دی تو ایرانی ٹیم ورلڈ کپ سے دستبردار ہو سکتی ہے۔
” مہدی تاج صدرFFIRI کا موقف ہے ہمارا میزبان فیفا ہے، مسٹر ٹرمپ یا امریکا نہیں۔ ہمیں اپنی عسکری علامات اور بالخصوص آئی آر جی سی کے احترام کی تحریری ضمانت چاہیے تاکہ کینیڈا جیسا واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔”
یادرہے کینیڈا کی جانب سے مہدی تاج کا ویزا منسوخ کیے جانے اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان نے کہ "IRGC سے وابستہ کسی بھی شخص کو داخلے کی اجازت نہیں ملے گی”، ان امن مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر امن معاہدہ صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے اگر واشنگٹن اور تہران اسپورٹس ڈپلومیسی کے ذریعے اپنے دیگر تنازعات کو حل کرنے میں لچک دکھائیں۔ فیفا کے سیکرٹری جنرل نے ایرانی حکام کو 20 مئی کو زیورخ مدعو کیا ہے، جسے اس سیاسی ڈیڈ لاک کو توڑنے کی پہلی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
کیا فٹ بال کا میدان دشمنی ختم کرنے کا ذریعہ بنے گا یا سیاسی ضد اس امن معاہدے کو بھی سمندر برد کر دے گی؟ یہ آنے والے چند ہفتے طے کریں گے۔
امن مذاکرات اور ورلڈ کپ فٹبال، ایران کی امریکا میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں شرکت کی نئی شرط

