تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سامنے آنے والی یہ خبر کہ ایران اور اس سے منسلک قوتوں نے خطے میں موجود 16 امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا، بظاہر ایک بڑی عسکری پیش رفت معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے کے لیے محض سرخیوں سے آگے بڑھ کر شواہد، ذرائع اور بیانیے کی پرتوں کا تجزیہ ناگزیر ہے۔ اس دعوے کی بنیاد ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ ہے جسے بعد ازاں علاقائی میڈیا، بالخصوص گلف نیوز، نے نمایاں طور پر شائع کیا، اور جس میں سیٹلائٹ تصاویر، دفاعی تجزیوں اور عسکری ذرائع کی بنیاد پر یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایران نے براہِ راست یا اپنے اتحادی نیٹ ورکس کے ذریعے امریکہ کے متعدد اڈوں کو نشانہ بنایا
تاہم اس خبر کی پیشکش میں جو پہلو سب سے زیادہ توجہ طلب ہے وہ “نقصان” اور “تباہی” کے درمیان فرق ہے۔ دستیاب معلومات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حملوں کا ہدف زیادہ تر حساس مگر مخصوص عسکری اجزاء تھے، جیسے ریڈار سسٹمز، کمیونیکیشن نیٹ ورکس، رن ویز کے حصے، اور بعض صورتوں میں طیارے یا ڈرون انفراسٹرکچر۔ اس نوعیت کے حملے روایتی معنوں میں مکمل تباہی نہیں بلکہ آپریشنل صلاحیت کو عارضی طور پر معطل کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ ان حملوں نے امریکی فوجی موجودگی کو وقتی طور پر متاثر کیا، نہ کہ اسے مکمل طور پر ختم کر دیا۔
اس پیش رفت کو وسیع تر عسکری حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایران کی جانب سے اپنایا گیا طریقہ کار واضح طور پر اسیمیٹرک وارفیئر کی کلاسیکی مثال ہے، جس میں محدود وسائل کے باوجود بڑے حریف کو ایسے مقامات پر نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں کم سے کم وسائل سے زیادہ سے زیادہ اسٹریٹجک خلل پیدا کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اڈوں کو وقتی طور پر خالی کرنا پڑا یا وہاں سرگرمیاں محدود کر دی گئیں، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملوں کا مقصد محض علامتی کارروائی نہیں بلکہ عملی دباؤ پیدا کرنا تھا۔
دوسری جانب، اس پورے معاملے میں اطلاعاتی جنگ کا عنصر بھی نہایت نمایاں ہے۔ ایران ان حملوں کو اپنی عسکری برتری کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہا ہے، جبکہ امریکی مؤقف عمومی طور پر محتاط اور کم شدت والا ہے، جس میں نقصان کو “قابلِ مرمت” یا “محدود” قرار دیا جا رہا ہے۔ یہی تضاد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید جنگیں اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ میڈیا، تاثر اور بیانیے کے محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہیں، جہاں ہر فریق اپنی کامیابی کو بڑھا چڑھا کر اور حریف کے اثر کو کم کر کے پیش کرتا ہے۔
مزید برآں، اس خبر کو خطے کی مجموعی جیو اسٹریٹجک صورتحال سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش، عالمی توانائی کی سپلائی پر اثرات، اور امریکہ و اس کے اتحادیوں کی عسکری پوزیشننگ—یہ تمام عوامل اس کشیدگی کو محض ایک علاقائی تنازع سے بڑھا کر عالمی سطح کے بحران میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے ہر عسکری پیش رفت، خواہ وہ محدود نوعیت کی ہی کیوں نہ ہو، بین الاقوامی سیاست میں غیر معمولی وزن اختیار کر لیتی ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ 16 امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد نہیں بلکہ معتبر ذرائع پر مبنی ہے، تاہم اسے مکمل تباہی یا فیصلہ کن عسکری شکست کے طور پر پیش کرنا حقیقت سے زیادہ سیاسی اور نفسیاتی بیانیے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ زمینی حقیقت اس کے درمیان واقع ہے: ایران نے ایک منظم اور سوچے سمجھے انداز میں امریکی عسکری ڈھانچے کو اسٹریٹجک سطح پر متاثر کیا، مگر یہ اثر زیادہ تر عارضی اور قابلِ تدارک ہے۔
میری رائے میں، اس واقعے کی اصل اہمیت اس کے فوری عسکری اثرات سے زیادہ اس بات میں ہے کہ اس نے خطے میں طاقت کے توازن اور جنگ کے طریقہ کار کو نئی جہت دی ہے۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ مستقبل کی جنگیں مکمل قبضے یا تباہی کے بجائے نشانہ بند خلل (targeted disruption) اور بیانیاتی برتری (narrative dominance) کے گرد گھومیں گی—اور اسی میں اس پوری خبر کی اصل “اندرونی کہانی” مضمر ہے۔


