Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      واٹس ایپ کا مخصوص آئی فون ڈیوائسز کی سپورٹ ختم کرنیکا فیصلہ

      پاکستان کا نام روشن: سابق چیئرمین نادرا طارق ملک دنیا کے ٹاپ 25 ‘آئیڈنٹٹی لیڈرز’ میں شامل؛تصویر ٹائمز اسکوئر پر

      ڈرون ٹیکنالوجی میں ‘بھالے’ جیسا وار: ترکیہ کا نیا اے آئی ‘مزراق’ ڈرون متعارف؛ جی پی ایس جیمنگ بھی اسے روکنے میں ناکام!

      سنہری موقع ،ٹویوٹا نے فارچیونر کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کمی کردی

      پاک بحریہ کی جدید ترین آبدوز ”ہنگور“ کو کمیشن کی تقریب

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    کیا واقعی ایران نے 16 امریکی فوجی تنصیبات کو مفلوج کر دیا؟ — اندرونی کہانی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سامنے آنے والی یہ خبر کہ ایران اور اس سے منسلک قوتوں نے خطے میں موجود 16 امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا، بظاہر ایک بڑی عسکری پیش رفت معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے کے لیے محض سرخیوں سے آگے بڑھ کر شواہد، ذرائع اور بیانیے کی پرتوں کا تجزیہ ناگزیر ہے۔ اس دعوے کی بنیاد ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ ہے جسے بعد ازاں علاقائی میڈیا، بالخصوص گلف نیوز، نے نمایاں طور پر شائع کیا، اور جس میں سیٹلائٹ تصاویر، دفاعی تجزیوں اور عسکری ذرائع کی بنیاد پر یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایران نے براہِ راست یا اپنے اتحادی نیٹ ورکس کے ذریعے امریکہ کے متعدد اڈوں کو نشانہ بنایا
    تاہم اس خبر کی پیشکش میں جو پہلو سب سے زیادہ توجہ طلب ہے وہ “نقصان” اور “تباہی” کے درمیان فرق ہے۔ دستیاب معلومات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حملوں کا ہدف زیادہ تر حساس مگر مخصوص عسکری اجزاء تھے، جیسے ریڈار سسٹمز، کمیونیکیشن نیٹ ورکس، رن ویز کے حصے، اور بعض صورتوں میں طیارے یا ڈرون انفراسٹرکچر۔ اس نوعیت کے حملے روایتی معنوں میں مکمل تباہی نہیں بلکہ آپریشنل صلاحیت کو عارضی طور پر معطل کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ ان حملوں نے امریکی فوجی موجودگی کو وقتی طور پر متاثر کیا، نہ کہ اسے مکمل طور پر ختم کر دیا۔
    اس پیش رفت کو وسیع تر عسکری حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایران کی جانب سے اپنایا گیا طریقہ کار واضح طور پر اسیمیٹرک وارفیئر کی کلاسیکی مثال ہے، جس میں محدود وسائل کے باوجود بڑے حریف کو ایسے مقامات پر نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں کم سے کم وسائل سے زیادہ سے زیادہ اسٹریٹجک خلل پیدا کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اڈوں کو وقتی طور پر خالی کرنا پڑا یا وہاں سرگرمیاں محدود کر دی گئیں، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملوں کا مقصد محض علامتی کارروائی نہیں بلکہ عملی دباؤ پیدا کرنا تھا۔
    دوسری جانب، اس پورے معاملے میں اطلاعاتی جنگ کا عنصر بھی نہایت نمایاں ہے۔ ایران ان حملوں کو اپنی عسکری برتری کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہا ہے، جبکہ امریکی مؤقف عمومی طور پر محتاط اور کم شدت والا ہے، جس میں نقصان کو “قابلِ مرمت” یا “محدود” قرار دیا جا رہا ہے۔ یہی تضاد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید جنگیں اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ میڈیا، تاثر اور بیانیے کے محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہیں، جہاں ہر فریق اپنی کامیابی کو بڑھا چڑھا کر اور حریف کے اثر کو کم کر کے پیش کرتا ہے۔
    مزید برآں، اس خبر کو خطے کی مجموعی جیو اسٹریٹجک صورتحال سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش، عالمی توانائی کی سپلائی پر اثرات، اور امریکہ و اس کے اتحادیوں کی عسکری پوزیشننگ—یہ تمام عوامل اس کشیدگی کو محض ایک علاقائی تنازع سے بڑھا کر عالمی سطح کے بحران میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے ہر عسکری پیش رفت، خواہ وہ محدود نوعیت کی ہی کیوں نہ ہو، بین الاقوامی سیاست میں غیر معمولی وزن اختیار کر لیتی ہے۔
    حاصلِ کلام یہ ہے کہ 16 امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد نہیں بلکہ معتبر ذرائع پر مبنی ہے، تاہم اسے مکمل تباہی یا فیصلہ کن عسکری شکست کے طور پر پیش کرنا حقیقت سے زیادہ سیاسی اور نفسیاتی بیانیے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ زمینی حقیقت اس کے درمیان واقع ہے: ایران نے ایک منظم اور سوچے سمجھے انداز میں امریکی عسکری ڈھانچے کو اسٹریٹجک سطح پر متاثر کیا، مگر یہ اثر زیادہ تر عارضی اور قابلِ تدارک ہے۔
    میری رائے میں، اس واقعے کی اصل اہمیت اس کے فوری عسکری اثرات سے زیادہ اس بات میں ہے کہ اس نے خطے میں طاقت کے توازن اور جنگ کے طریقہ کار کو نئی جہت دی ہے۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ مستقبل کی جنگیں مکمل قبضے یا تباہی کے بجائے نشانہ بند خلل (targeted disruption) اور بیانیاتی برتری (narrative dominance) کے گرد گھومیں گی—اور اسی میں اس پوری خبر کی اصل “اندرونی کہانی” مضمر ہے۔

     

    Related Posts

    ہنٹا وائرس اور ایران۔امریکا جنگ: پاکستان کے لیے ایک خاموش مگر سنگین خطرہ

    کوئٹہ میں شہید لیفٹیننٹ کرنل خالد حسین کی نماز جنازہ ادا

    سونے ، چاندی کابڑا جمپ

    مقبول خبریں

    کیا واقعی ایران نے 16 امریکی فوجی تنصیبات کو مفلوج کر دیا؟ — اندرونی کہانی

    سونے ، چاندی کابڑا جمپ

    کفایت شعاری مہم یا کچھ اور؟ امریکا نے پشاور میں قونصل خانہ بند کردیا

    ’امن معاہدے‘ کے اشارے: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ؛ برینٹ کی اونچی اڑان تھم گئی!

    تاریخی فیصلہ: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت برابر، کوئی کسی کے ماتحت نہیں!

    بلاگ

    ہنٹا وائرس اور ایران۔امریکا جنگ: پاکستان کے لیے ایک خاموش مگر سنگین خطرہ

    کیا واقعی ایران نے 16 امریکی فوجی تنصیبات کو مفلوج کر دیا؟ — اندرونی کہانی

    کیا پاکستان میں مارشل لا قریب ہے؟ — ایک محتاط مگر واضح تجزیہ

    ون کانسٹیٹیوشن ایونیو—قانونی فیصلہ یا سیکیورٹی اسٹریٹیجی؟

    بین الاقوامی منافقت اور دوہرے معیار عالمی نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.