اسلام آباد+لاہور: وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار نے ملکی معیشت اور عوامی جیب پر بڑھتے ہوئے بوجھ کی تشویشناک تصویر پیش کر دی ہے۔ اپریل کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد تک جا پہنچی ہے، جو جولائی 2024 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کے اس حالیہ طوفان کی بنیادی جڑیں مشرقِ وسطیٰ کے حالات سے جڑی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث اس اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔عالمی مارکیٹ کے دباؤ کے باعث پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھیں، جس سے ایندھن، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے مطابق مہنگائی کی رفتار میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے:
افراطِ زر کی 10.9 فیصد شرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مقرر کردہ 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔شرحِ سود کا اضافہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسٹیٹ بینک نے مہنگائی کو لگام ڈالنے کے لیے پالیسی ریٹ میں 100 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کر کے اسے 11.5 فیصد کر دیا تھا۔ اپریل میں قیمتوں میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ 9 ماہ کی تیز ترین ماہانہ رفتار ہے۔
| شعبہ | مارچ کی شرح | اپریل کی شرح |
| ٹرانسپورٹ | 12.5% | 29.9% |
| رہائش اور یوٹیلٹیز | 11.5% | 16.8% |
| خوراک و مشروبات | 3.6% | 7.6% |
ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں تقریباً 30 فیصد اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کس طرح پوری سپلائی چین اور عام آدمی کی زندگی کو متاثر کر رہی ہیں۔ مارچ میں افراطِ زر کی شرح 7.3 فیصد تھی، لیکن محض ایک ماہ میں اس میں ہونے والا بڑا اضافہ معاشی استحکام کے لیے ایک نیا چیلنج بن گیا ہے

