تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

ادھر میانوالی میں ایک ایسا مقدمہ درج ہوا جس نے سنجیدہ حلقوں کو بھی حیران کر دیا۔ ایک مبینہ کال گرل کی درخواست پر فوری ایف آئی آر درج ہونا، اور وہ بھی ایک ایسے معاملے پر جو قانونی و اخلاقی پیچیدگیوں سے بھرپور ہے یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ترجیحات کا توازن بگڑ چکا ہے۔
ننکانہ صاحب میں ایک خاتون کے ساتھ مبینہ غیر فطری فعل کا مقدمہ اپنی نوعیت کا انتہائی حساس کیس ہے، جس پر فوری کارروائی بلاشبہ ضروری تھی۔ مگر ہر متاثرہ شہری کو اسی رفتار سے انصاف مل رہا ہے؟ اسی دوران لاہور کے جوہر ٹاؤن میں ایک شہری، احمد بشیر، رات کو موبائل چھینے جانے کا شکار ہوتے ہیں، مگر ان کی ایف آئی آر دو دن بعد درج ہوتی ہے۔ کیا ایک عام شہری کی عزت، جان و مال کی کوئی اہمیت نہیں؟ کیا انصاف بھی اب "کیس کی نوعیت” دیکھ کر فراہم کیا جائے گا؟
لاہور، میانوالی، ننکانہ صاحب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات




