Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      پاک بحریہ کی جدید ترین آبدوز ”ہنگور“ کو کمیشن کی تقریب

      ہوشیار! آپ کے برابر سے گزرتی گاڑی آپ کا بینک اکاؤنٹ خالی کر سکتی ہے: کینیڈا میں ’ایس ایم ایس بلاسٹر‘ گینگ پکڑا گیا، 13 ملین فون متاثر!

      ڈیجیٹل دنیا میں ’مادری زبانوں‘ کا مسیحا: رحمت عزیز خان چترالی کا وہ کارنامہ جس نے پاکستان کا نام روشن کر دیا!

      مصنوعی ذہانت، نظریہ اور منافع—اوپن اے آئی تنازع اور پاکستان کا مستقبل

      حکومتی بابوؤں کا نیا ‘صدری نسخہ’: مڈل کلاس کو نچوڑنے کا منصوبہ، کیا اب بجلی کا بل تنخواہ دیکھ کر آئے گا؟

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

      بیانئے کی جنگ میں ٹیکنالوجی کا استعمال

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    سولر لائسنسنگ کا خاتمہ: عوامی ریلیف یا محض ایک سیاسی یوٹرن؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:سہیل احمد رانا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے۔

    پاکستان کی وفاقی حکومت اور پاور ڈویژن کی جانب سے 25 کلو واٹ تک کے گھریلو سولر سسٹم کے لیے نیپرا (NEPRA) سے لائسنس لینے کی شرط ختم کرنے کا فیصلہ بظاہر ایک خوش آئند قدم نظر آتا ہے۔ وزیرِ توانائی اویس لغاری کی جانب سے نیپرا کو بھیجی گئی یہ ہدایت اس بات کا اعتراف ہے کہ حالیہ ریگولیٹری تبدیلیاں نہ صرف غیر ضروری تھیں بلکہ عام آدمی کے لیے "سولرائزیشن” کے عمل میں ایک بڑی رکاوٹ بن رہی تھیں۔ تاہم، اس فیصلے کی تہوں میں چھپی حکمتِ عملی اور مستقبل کے خدشات پر ایک تنقیدی نظر ڈالنا ضروری ہے۔
    سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت نے یہ قدم کیوں اٹھایا؟ پچھلے چند ہفتوں میں سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس فیصلے کے خلاف شدید ردِعمل دیکھنے کو ملا، جہاں صارفین کا موقف تھا کہ ایک طرف حکومت مہنگی بجلی فراہم کر رہی ہے اور دوسری طرف شمسی توانائی کی حوصلہ شکنی کے لیے 1000 روپے فی کلو واٹ فیس اور پیچیدہ لائسنسنگ کے جال بنے جا رہے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ حکومت عوامی غم و غصے اور سیاسی دباؤ کے پیشِ نظر اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی ہے، جسے محض "عوام دوستی” کہنا مبالغہ ہوگا۔
    دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ایک طرف تو لائسنسنگ ختم کر کے طریقہ کار کو آسان بنایا جا رہا ہے، لیکن دوسری طرف "نیٹ میٹرنگ” کو "نیٹ بلنگ” میں تبدیل کرنے کی تلوار اب بھی صارفین کے سروں پر لٹک رہی ہے۔ اگر حکومت لائسنس کی شرط تو ختم کر دے لیکن سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت (Export Rate) کو کم کر دے، تو یہ صارف کے ساتھ ایک ہاتھ سے دے کر دوسرے ہاتھ سے چھین لینے کے مترادف ہوگا۔
    تکنیکی طور پر، 2015 کے قوانین کی طرف واپسی ایک مثبت قدم ہے۔ ڈسکوز (DISCOs) کو یہ اختیار واپس ملنے سے عمل میں تیزی آئے گی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے تقسیم کار ادارے (DISCOs) اس بوجھ کو سنبھالنے کی صلاحیت اور شفافیت رکھتے ہیں؟ ماضی میں انہی اداروں میں کرپشن اور تاخیری حربوں کی وجہ سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
    حاصلِ کلام یہ کہ لائسنس فیس اور نیپرا کے چکروں سے نجات ایک اچھا آغاز ہے، مگر پائیدار پالیسی کے بغیر یہ محض ایک وقتی مرہم ہے۔ اگر حکومت واقعی شمسی توانائی کو فروغ دینا چاہتی ہے، تو اسے کم از کم دس سال کے لیے ایک مستقل پالیسی وضع کرنی چاہیے تاکہ سرمایہ کاری کرنے والے شہری خود کو غیر محفوظ محسوس نہ کریں۔ صرف لائسنس ختم کرنا کافی نہیں، بلکہ سولر صارفین کو گرڈ کا دشمن سمجھنے کے بجائے توانائی کے بحران کا حل سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    Related Posts

    مری :پیر تک لاک ڈاؤن واپس نہ ہوا تو۔۔۔۔۔غیرمعینہ مدت تک ہڑتال، انجمن تاجران کا اعلان

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

    سابق اینکر حال سیاستدان اقرار الحسن کو جواب دینے پر ایف آئی اے اہلکار چیمہ معطل

    مقبول خبریں

    سابق اینکر حال سیاستدان اقرار الحسن کو جواب دینے پر ایف آئی اے اہلکار چیمہ معطل

    فساد برپا کرنیوالے لالچی غیر ملکیوں کی جگہ خلیج فارس کے پانیوں کی تہہ میں ہے، مجتبیٰ خامنہ ای

    ” مائیکل “کنگ آف پاپ کا عالمی باکس آفس پر تاریخی قبضہ:  عالمی ریکارڈز کے پرخچے اڑا دیے!جعفر جیکسن کی لازوال پرفارمنس

    کراچی کے بل بورڈز پر ’اشتہاری جنگ‘: شان فوڈز کے دعوے پر فلک فوڈز کا ایسا کرارا جواب کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا!

    ڈالر کی گراوٹ اور عالمی تناؤ: سونے کی قیمتیں ایک ماہ کی کم ترین سطح سے اچانک بحال، خام تیل کی تپش نے سرمایہ کاروں کو چونکا دیا!

    بلاگ

    کے پی آئی کا دباؤ،، پنجاب میں گورننس کارکردگی کے بجائے نمبرز تک محدود

    موبائل فون اور دم توڑتی پرائیویسی۔!!!!

    لاہور، میانوالی، ننکانہ صاحب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات

    متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے علیحدگی کا فیصلہ کیوں؟

    خطرات کا گٹھ جوڑ — پاکستان ایک پوشیدہ جنگ میں

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.