Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      گوتم اڈانی سے ایشیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز کس نے چھینا؟

      امریکا کے امیر ترین شخص ہونے کے ساتھ دنیا کے پہلے کھرب پتی ہونے کا اعزاز

      کیا اب فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کا استعمال مہنگا ہونے والا ہے؟ ’میٹا ون‘ متعارف کرا دی گئی

      عالمی سیکیورٹی گورننس کا قیام ،نئے عالمی ہتھیاروں کی دوڑ پر ضابطے لاگو کیے جائیں: چین کا مطالبہ

      بلیک ہول اورستاروں کی پیدائش بارے تحقیق میں اہم انکشاف

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    سولر لائسنسنگ کا خاتمہ: عوامی ریلیف یا محض ایک سیاسی یوٹرن؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:سہیل احمد رانا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے۔

    پاکستان کی وفاقی حکومت اور پاور ڈویژن کی جانب سے 25 کلو واٹ تک کے گھریلو سولر سسٹم کے لیے نیپرا (NEPRA) سے لائسنس لینے کی شرط ختم کرنے کا فیصلہ بظاہر ایک خوش آئند قدم نظر آتا ہے۔ وزیرِ توانائی اویس لغاری کی جانب سے نیپرا کو بھیجی گئی یہ ہدایت اس بات کا اعتراف ہے کہ حالیہ ریگولیٹری تبدیلیاں نہ صرف غیر ضروری تھیں بلکہ عام آدمی کے لیے "سولرائزیشن” کے عمل میں ایک بڑی رکاوٹ بن رہی تھیں۔ تاہم، اس فیصلے کی تہوں میں چھپی حکمتِ عملی اور مستقبل کے خدشات پر ایک تنقیدی نظر ڈالنا ضروری ہے۔
    سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت نے یہ قدم کیوں اٹھایا؟ پچھلے چند ہفتوں میں سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس فیصلے کے خلاف شدید ردِعمل دیکھنے کو ملا، جہاں صارفین کا موقف تھا کہ ایک طرف حکومت مہنگی بجلی فراہم کر رہی ہے اور دوسری طرف شمسی توانائی کی حوصلہ شکنی کے لیے 1000 روپے فی کلو واٹ فیس اور پیچیدہ لائسنسنگ کے جال بنے جا رہے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ حکومت عوامی غم و غصے اور سیاسی دباؤ کے پیشِ نظر اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی ہے، جسے محض "عوام دوستی” کہنا مبالغہ ہوگا۔
    دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ایک طرف تو لائسنسنگ ختم کر کے طریقہ کار کو آسان بنایا جا رہا ہے، لیکن دوسری طرف "نیٹ میٹرنگ” کو "نیٹ بلنگ” میں تبدیل کرنے کی تلوار اب بھی صارفین کے سروں پر لٹک رہی ہے۔ اگر حکومت لائسنس کی شرط تو ختم کر دے لیکن سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت (Export Rate) کو کم کر دے، تو یہ صارف کے ساتھ ایک ہاتھ سے دے کر دوسرے ہاتھ سے چھین لینے کے مترادف ہوگا۔
    تکنیکی طور پر، 2015 کے قوانین کی طرف واپسی ایک مثبت قدم ہے۔ ڈسکوز (DISCOs) کو یہ اختیار واپس ملنے سے عمل میں تیزی آئے گی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے تقسیم کار ادارے (DISCOs) اس بوجھ کو سنبھالنے کی صلاحیت اور شفافیت رکھتے ہیں؟ ماضی میں انہی اداروں میں کرپشن اور تاخیری حربوں کی وجہ سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
    حاصلِ کلام یہ کہ لائسنس فیس اور نیپرا کے چکروں سے نجات ایک اچھا آغاز ہے، مگر پائیدار پالیسی کے بغیر یہ محض ایک وقتی مرہم ہے۔ اگر حکومت واقعی شمسی توانائی کو فروغ دینا چاہتی ہے، تو اسے کم از کم دس سال کے لیے ایک مستقل پالیسی وضع کرنی چاہیے تاکہ سرمایہ کاری کرنے والے شہری خود کو غیر محفوظ محسوس نہ کریں۔ صرف لائسنس ختم کرنا کافی نہیں، بلکہ سولر صارفین کو گرڈ کا دشمن سمجھنے کے بجائے توانائی کے بحران کا حل سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    Related Posts

    پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز کا انٹر میڈیٹ نتائج کی تاریخوں کا اعلان

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام اسکول کرکٹ چیمپئن شپ کی افتتاحی تقریب

    دیہاتی زندگی میں چوپال کی اہمیت

    مقبول خبریں

    پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز کا انٹر میڈیٹ نتائج کی تاریخوں کا اعلان

    دوسرے ون ڈے میں آسٹریلیا کی زمبابوے کے خلاف 84 رنز سے شاندار فتح، ٹریوس ہیڈ کی شاندار سینچری

    کوہاٹ دھماکہ میں شہیداورزخمی ہونیوالے پولیس اہلکاروں کے نام

    گرلز پرائمری سکول میں اوباش کا زبردستی داخلہ، بچوں پر تشدد اور اساتذہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں

    پرندہ ٹکرانے کے بعد F-16 لڑاکا طیارہ کھیت میں گر کر تباہ، پائلٹ بروقت ایجکٹ کرنے میں کامیاب

    بلاگ

    دیہاتی زندگی میں چوپال کی اہمیت

    خانۂ خدا بھی محفوظ نہیں!

    خلیج اور فارس کی جنگ—امکانات، اثرات اور پاکستان کی حکمتِ عملی

    پاکستان اور سعودیہ کو ایک جیسی صورت حال کا سامنا

    جرم کے سامنے دیوار بننے والے افسر کے ساتھ کھڑے ہو جائیے

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.