واشنگٹن/تہران: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مکمل فوجی ناکہ بندی شروع ۔۔۔خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کر گئی ہیں، جس سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں مندی کے سائے گہرے ہو گئے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں 8 فیصد ہوش ربا اضافہ
صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ امریکا آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے یا وہاں سے نکلنے والے "ہر جہاز” کو روک دے گا، بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 8 فیصد کا بڑا جمپ دیکھا گیا۔
برینٹ کروڈ: 102 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا۔
امریکی خام تیل: 104 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
عالمی اسٹاک مارکیٹ اور مہنگائی کا طوفان
تیل کی قیمتوں میں اضافے کا فوری اثر اسٹاک مارکیٹس پر پڑا۔ ڈاؤ فیوچرز میں 502 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی، جبکہ نیسڈیک اور S&P 500 بھی ایک فیصد سے زائد گر گئے۔
پٹرول بم: امریکا میں پٹرول کی اوسط قیمت 4.12 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جو جنگ کے آغاز سے اب تک 38 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل مہنگا ہونے سے کھاد کی تیاری اور پیکیجنگ کی لاگت بڑھے گی، جس سے کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں ناقابلِ برداشت اضافہ ہو سکتا ہے۔
مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کی سینئر فیلو کیرن ینگ کے مطابق، یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے اور مہنگائی کا دباؤ عام آدمی کی کمر توڑ دے گا۔
یہ بحران ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب فریقین کے درمیان پائیدار جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے میں ناکامی ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے پاس جنگ سے نکلنے کی کوئی واضح حکمتِ عملی (Exit Strategy) موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے خطے میں بے یقینی کی کیفیت بڑھتی جا رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد تیل بردار جہاز سمندر کے اس حصے سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں جس کی ناکہ بندی آج سے شروع ہو چکی ہے۔دو پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز پہنچنے کے بعد اچانک واپس بھیج دیا گیا۔ نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ پاکستان نیشنل شپنگ کے دونوں جہاز شالامار اور خیرپور پرسوں رات کویت اور یو اے ای کیلئے روانہ ہوئے تھے۔

