تحریر:رانا سہیل احمد
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سفارت کاری کی ناکامی کے بعد ٹرمپ کی نئی حکمتِ عملی مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آ کھڑا ہوا ہے، اور اس بار معاملہ صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور جغرافیائی سیاست کے توازن سے جڑا ہوا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا اس پر سخت کنٹرول قائم کرنے کے اشارے دراصل ایک نئی اور غیر روایتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہیں، جو براہِ راست سفارت کاری کی ناکامی کے بعد اختیار کی گئی معلوم ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے کی بندش نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ یورپ، چین، بھارت اور دیگر بڑی معیشتوں کے لیے شدید بحران پیدا کر سکتی ہے۔ ایسے میں اگر امریکہ اس گزرگاہ کو محدود یا کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو یہ ایک معاشی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوگا، جس کے اثرات فوری اور شدید ہوں گے۔ ٹرمپ کی پالیسی کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ روایتی جنگی حکمتِ عملی سے ہٹ کر "معاشی دباؤ اور سمندری کنٹرول” پر مبنی نظر آتی ہے۔ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ایک نکتہ پر ناکامی کے بعد، جہاں سفارتی ذرائع سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی، وہاں ٹرمپ نے بظاہر طاقت کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ عالمی تجارتی راستوں کو بطور leverage استعمال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ حکمتِ عملی نہ صرف ایران کو دباؤ میں لانے کی کوشش ہے بلکہ چین جیسے ممالک کو بھی پیغام دینا ہے، جو ایران کے ساتھ توانائی کے شعبے میں قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم، اس حکمتِ عملی کے خطرات بھی کم نہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس پر عسکری کنٹرول کسی بھی وقت براہِ راست تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اگر اس کی برآمدات کو روکا گیا تو وہ بھی اس گزرگاہ کو غیر محفوظ بنا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک محدود اقتصادی اقدام بآسانی ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ مزید برآں، یہ اقدام بین الاقوامی قوانین، خصوصاً "آزادیٔ بحری گزرگاہ” (Freedom of Navigation) کے اصولوں کے بھی منافی ہو سکتا ہے۔ اگر امریکہ یکطرفہ طور پر اس راستے کو کنٹرول کرتا ہے تو یہ عالمی سطح پر ایک خطرناک مثال قائم کرے گا، جس سے دیگر طاقتیں بھی ایسے اقدامات کی طرف مائل ہو سکتی ہیں۔
سفارت کاری سے سمندری کنٹرول تک: کیا آبنائے ہرمز پر ’ٹرمپ لاک‘ عالمی معیشت کا رخ بدل دے گا؟


