تل ابیب :آج 12 اپریل 2026 ہے، اور دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں جنگ کی تعریف مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ یروشلم پوسٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق تہران کے کھنڈرات سے لے کر یوکرین کی خندقوں اور تائیوان کی سمندری حدود تک، تین بڑے تنازعات نے عالمی دفاعی ٹیکنالوجی کو اس طرح بدل دیا ہے جو سرد جنگ کے عروج کے بعد سے نہیں دیکھا گیا۔
1. تہران کا ‘ایک منٹ کا کھیل’: آپریشن رورنگ لائن (Epic Fury)
28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی اس مہم نے ثابت کر دیا کہ اب جنگیں ہفتوں نہیں بلکہ سیکنڈوں میں اپنا رخ متعین کرتی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے اس مشترکہ حملے نے تاریخ کے کئی ریکارڈ توڑ دیے۔
خوفناک رفتار: ایران کے فضائی دفاعی نظام اور قیادت (بشمول سپریم لیڈر) کو نشانہ بنانے والا پہلا حملہ صرف 60 سیکنڈ تک جاری رہا۔
خفیہ اطلاعات کی برتری: پانچ ہفتوں میں 23,000 سے زائد گولہ بارود کا استعمال کیا گیا، لیکن اس کی کامیابی کا راز ‘بم’ نہیں بلکہ وہ ‘سینسرز’ تھے جو چند گھنٹوں کے اندر اہداف کی فہرست اپڈیٹ کر رہے تھے۔

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ اور ٹی وی نیٹ ورک ’سی این این‘ نے سیٹلائٹ تصاویر اور انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے کم قیمت شاہد ڈرونز کی بڑی تعداد استعمال کرتے ہوئے امریکی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا۔

2. یوکرین: ‘کھلونوں’ سے بحری جہازوں کی تباہی تک
یوکرین اور روس کی جنگ اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور یہ دنیا کی سب سے بڑی ‘جنگی لیبارٹری’ بن گئی ہے۔
ڈرون انقلاب: وہ ڈرونز جنہیں کبھی ‘کھلونے’ سمجھا جاتا تھا، آج وہ ٹینکوں اور بحری جہازوں کے قاتل بن چکے ہیں۔ حال ہی میں یوکرین نے ایک ایسی ‘ڈرون کشتی’ (USV) سے روسی ہیلی کاپٹر مار گرایا جو خود ایک ڈرون لانچ کر رہی تھی۔
سستا اور کارگر: یوکرین نے دکھایا کہ بڑی دفاعی کمپنیوں کے مہنگے ہتھیاروں کے بجائے، چھوٹے سٹارٹ اپس کے بنائے ہوئے سستے ڈرونز اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) زیادہ مؤثر ہو سکتے ہیں۔

مشرقِ بعید میں چین نے اپنا دفاعی بجٹ 278 بلین ڈالر تک بڑھا دیا ہے، لیکن تائیوان اب ڈرنے کے بجائے یوکرین اور اسرائیل کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے۔
اسرائیلی ماڈل: تائیوان اب ‘T-Dome’ (آئرن ڈوم کی طرز پر) تیار کر رہا ہے تاکہ چینی میزائلوں کا راستہ روکا جا سکے۔
غیر یقینی صورتحال: ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی فوج بہت لیس ہے، لیکن اسے ‘میدانِ جنگ’ کا تجربہ نہیں ہے۔ کیا ایک ایسی فوج جو صرف مشقوں میں ماہر ہو، تائیوان کی ‘ڈرون جنگ’ کا سامنا کر سکے گی؟
کیا اب مقدار سے زیادہ ‘Inventory’ اہم ہے؟
ان تینوں جنگوں نے دفاعی ماہرین کو ایک کڑوا سبق سکھایا ہے: صرف اعلیٰ ٹیکنالوجی کافی نہیں، بلکہ اس کا ذخیرہ (Inventory) ہونا ضروری ہے۔
سافٹ ویئر کی طاقت: اب جنگیں میدان میں نہیں، بلکہ کمپیوٹر سکرین پر کوڈنگ کے ذریعے لڑی جا رہی ہیں تاکہ دشمن کے سگنلز کو جام کیا جا سکے۔
مقامی پیداوار: دوسرے ممالک پر انحصار ختم کر کے اپنی فیکٹریوں میں ہتھیار بنانا اب بقا کا واحد راستہ ہے۔
تبدیلی کی رفتار: جو ملک اپنے ہتھیاروں کو ہفتوں کے اندر اپڈیٹ نہیں کر سکتا، وہ ہار جائے گا۔

