ویٹیکن سٹی: مشرقِ وسطٰی میں بڑھتی ہوئی جنگی چنگاریوں کے درمیان پوپ لیو چہاردہم نے اپنے اب تک کے سخت ترین لہجے میں عالمی طاقتوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں منعقدہ دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، تاریخ کے پہلے امریکی نژاد پوپ نے امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو "قادرِ مطلق ہونے کا وہم” قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔
پوپ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں کا نام لیے بغیر کہا کہ دنیا میں خود پرستی، دولت کی ہوس اور طاقت کی نمائش کا دور اب ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حقیقی طاقت زندگیوں کے تحفظ میں ہے نہ کہ انہیں ختم کرنے میں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، پوپ کا یہ بیان براہِ راست ان امریکی و اسرائیلی حکام کے لیے ایک پیغام ہے جو مذہب کو جنگ کے جواز کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
پوپ نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے بیانات کے تناظر میں کہا کہ خدا کے مقدس نام کو موت کے سودوں اور بمباری کے لیے گھسیٹنا ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور وہاں مقیم عیسائی برادری کے تحفظ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
جنگ کے آغاز میں خاموش رہنے والے پوپ نے اب دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے ایرانی تہذیب کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کو انسانیت کے خلاف قرار دیا ہے۔
پوپ لیو نے تمام "نیک نیت انسانوں” سے اپیل کی کہ وہ سیاسی رہنماؤں پر امن مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالیں تاکہ برائی کے اس شیطانی چکر کو توڑا جا سکے۔
تاریخ کے پہلے امریکی نژاد پوپ نے اپنی دعا میں امریکہ یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا کہ خود پرستی اور دولت پرستی بہت ہو چکی۔ طاقت کے مظاہرے اور جنگ بہت ہو چکی۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی طاقت زندگی کی خدمت کرنے سے ظاہر ہوتی ہے۔

