اسلام آباد :ایرانی حکومت کی جانب سے ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ بات چیت ختم ہو گئی ہے اور دونوں اطراف کے تکنیکی ماہرین دستاویزات کا تبادلہ کریں گے۔بیان کے مطابق ’اختلافات کے باوجود مذاکرات جاری رہیں گے۔‘
تاہم پوسٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ بات چیت دوبارہ کب شروع ہو گی۔
مذاکرات ختم ہونے کے کئی گھنٹے بعد ایران کی وزارت خارجہ نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ امن کے لیے ہونے والی کوششوں کو کامیاب بنانا چاہتا ہے تو ’حد سے زیادہ مطالبات‘ اور ’غیرقانونی درخواستوں‘ سے گزیر کرے۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے نے بتایا کہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں متعدد نکات پر اتفاق ہوا ہے تاہم دو، تین اہم نکات پر اختلاف رائے کے باعث تاحال جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ مذاکرات ’بد اعتمادی کے ماحول‘ میں شروع ہوئے تھے اور ایک نشست میں معاہدہ طے پائے جانے کا امکان کم تھا۔
’یہ مذاکرات 40 روزہ جنگ کے بعد، بے اعتمادی اور شکوک و شبہات کے ماحول میں ہوئے۔ فطری طور پر یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی تھی کہ محض ایک ملاقات میں کوئی معاہدہ طے پا جائے۔ کسی نے ایسی توقع نہیں کی تھی۔‘
اسماعیل بقائی کے مطابق، ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز جیسے کچھ نئے معاملات بھی شامل کر دیے گئے جن میں سے ہر ایک کی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔
ان کا کہنا ہے ایران، پاکستان اور خطے کے ’دیگر دوستوں‘ کے درمیان رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔
وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر لکھا کہ ’اس سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار مخالف فریق کی سنجیدگی، نیک نیتی، ضرورت سے زیادہ مطالبات اور غیر قانونی درخواستوں سے گریز اور ایران کے جائز حقوق و مفاد کو تسلیم کرنے پر ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ فریقین نے مختلف سٹریٹیجک معاملات ’آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام، جنگ کی تلافی، پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے خلاف جنگ کے مکمل خاتمے سمیت دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

