واشنگٹن ڈی سی:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا جلد ہی ان تمام جہازوں کی ’ناکہ بندی‘ شروع کرے گا جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے۔
ٹروتھ سوشل پر جاری ایک طویل بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ’ملاقات اچھی رہی، زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا، لیکن وہ واحد نکتہ جو سب سے اہم تھا یعنی ’جوہری معاملہ‘ اس پر اتفاق نہیں ہو سکا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آزادانہ آمدورفت کے معاہدے تک ’کسی بھی وقت‘ پہنچا جا سکتا ہے، لیکن ایران نے اس کی اجازت نہیں دی اور صرف یہ کہہ کر رکاوٹ ڈالی کہ ’شاید کہیں کوئی بارودی سرنگ ہو، جس کے بارے میں صرف ایران کو علم ہے۔‘
— JD Vance (@JDVance) April 12, 2026
اسی بیان میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ’بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کو تلاش کرے اور روکے جس نے ایران کو ٹول ادا کیا ہو۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی بحریہ جلد ہی ’ایرانیوں کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگوں کو تباہ کرنا شروع کرے گی۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ ’جو بھی غیر قانونی ٹول ادا کرے گا، اسے کھلے سمندر میں محفوظ راستہ نہیں ملے گا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’کوئی بھی ایرانی جو ہم پر یا پرامن جہازوں پر حملہ کرے گا، اسے تباہ کر دیا جائے گا۔‘
ان کے مطابق ’ناکہ بندی جلد شروع ہونے والی ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک اور بیان میں یہ بھی کہا کہ ’ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن جان بوجھ کر انھوں نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔‘
ان کے مطابق اس صورتحال نے ’دنیا بھر میں کئی ممالک اور لوگوں کے لیے بے چینی، خلل اور تکلیف پیدا کی۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو چاہیے کہ ’جتنی جلدی ممکن ہو اس بین الاقوامی آبی راستے کو کھولنے کا عمل شروع کرے۔‘
انھوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ انھیں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور مذاکرات کار جیرڈ کشنر نے مکمل طور پر بریف کیا ہے۔
انھوں نے پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔
ٹرمپ کے مطابق ’تقریباً 20 گھنٹے‘ جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ ’اصل مسئلہ صرف ایک ہے ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ کئی نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، جو فوجی کارروائی جاری رکھنے سے بہتر تھے لیکن ان کے مطابق ’یہ سب نکات اس حقیقت کے مقابلے میں بے معنی ہیں کہ جوہری طاقت ایسے غیر مستحکم، مشکل اور غیر متوقع لوگوں کے ہاتھ میں نہیں دی جا سکتی۔‘

