بیجنگ/ اسلام آباد:جب پاکستان کی زمین پر امریکا اور ایران کے وفود جنگ کے خاتمے کی راہیں تلاش کرنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں، مشرق سے ایک انتہائی بااثر مگر محتاط کھلاڑی، چین، اس پوری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، چین نے اس جنگ بندی کے لیے پسِ پردہ اہم کردار تو ادا کیا ہے، لیکن وہ تہران کا وہ ’محافظ‘ بننے کو تیار نہیں جس کی ایران کو توقع تھی۔
رپورٹس کے مطابق چین میں ایران کے سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے عوامی سطح پر اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ بیجنگ اس امن عمل کا ’ضامن‘ (Guarantor) بنے۔ تاہم، جب چینی وزارتِ خارجہ سے اس بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کسی بھی قسم کی ذمہ داری لینے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ ”تمام فریقین مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں“۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی پالیسی ”مداخلت مگر بغیر کسی ضمانت کے“ (Influence without commitment) پر مبنی ہے۔ چین ایران سے تیل بھی خرید رہا ہے اور اس کی معیشت کو سہارا بھی دے رہا ہے، لیکن جب بات سیکیورٹی کی آتی ہے، تو بیجنگ کوئی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں۔ چین کا اصل مقصد یہ ہے کہ یہ تنازع اس کے اپنے عالمی معاشی ایجنڈے کو متاثر نہ کرے۔
چین ایک طویل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی برآمدات اور عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی لیے چین نے ایک طرف اقوامِ متحدہ میں ایران کے خلاف قرارداد کو ویٹو کیا، تو دوسری طرف صدر ٹرمپ کو ایک ’سفارتی راستہ‘ (Off-ramp) فراہم کرنے میں بھی مدد کی۔
چینی قیادت اس تنازع کو مکمل طور پر حل کرنے کے بجائے صرف اس کے اثرات کو ’مینج‘ کرنا چاہتی ہے۔ بیجنگ ایک ایسا کھلاڑی ہے جو تب ہی مداخلت کرتا ہے جب اس کے اپنے مفادات خطرے میں ہوں، ورنہ وہ دور بیٹھ کر تماشہ دیکھنے اور صرف اپنی معیشت کو محفوظ بنانے کو ترجیح دیتا ہے۔
اسلام آباد مذاکرات میں چین کا کردار اہم تو ہوگا، لیکن تہران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بیجنگ اس کے لیے امریکا سے براہِ راست ٹکر لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

