تہران/اسلام آباد/ریاض: مشرق وسطیٰ میں دیرینہ حریفوں کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے مشرقی علاقے جبیل میں واقع ایک اہم پیٹرو کیمیکل کمپلیکس پر ڈرون اور میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔ دوسری جانب، پاکستان نے اس حملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ غیر مشروط یکجہتی کا اعلان کیا ہے، اور وزیراعظم شہباز شریف نے خود سعودی ولی عہد سے رابطہ کر کے حمایت کا یقین دلایا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے علاقے جبیل میں پیٹرو کیمیکل کمپلیکس پر کیا گیا ڈرون اور میزائل حملہ پیر کے روز ایران میں پیٹرو کیمیکل پلانٹس کو نشانہ بنانے والے حملوں کا "جواب” ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے عینی شاہدین کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حملے کے نتیجے میں کمپلیکس میں آگ بھڑک اٹھی اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی میڈیا، بشمول فارس اور تسنیم نیوز، نے بھی اس واقعے کی ویڈیو شیئر کی ہے جس میں تنصیبات میں آگ لگی دیکھی جا سکتی ہے۔
تاہم، بی بی سی نے واضح کیا ہے کہ وہ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے، اور سعودی حکام نے ابھی تک ان رپورٹس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
پاکستان کا شدید ردعمل اور سفارتی کوششیں
سعودی عرب کی توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے فوری بعد پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک ہنگامی اور سخت بیان جاری کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان ان حملوں کی ’دو ٹوک‘ مذمت کرتا ہے اور صورتحال پر اسے ’گہری تشویش‘ ہے۔ پاکستان ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی سمجھتا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس کشیدگی سے پورے خطے کا امن اور استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا ولی عہد محمد بن سلمان سے رابطہ
اس کشیدہ صورتحال کے فوری بعد، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی پر تبادلۂ خیال کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے الجبیل آئل فسیلیٹی پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی اور جاری حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی اور مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ولی عہد کو یقین دلایا:
”پاکستان کی حکومت اور عوام ہمیشہ اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے، جس طرح سعودی قیادت اور عوام نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔“
وزیراعظم نے موجودہ کشیدگی کے دوران سعودی قیادت کی جانب سے تحمل اور دانشمندی کے مظاہرے کو سراہا۔ انہوں نے ولی عہد کو مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ مل کر امن کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ گفتگو کے آخر میں وزیراعظم شہباز شریف نے خادم الحرمین الشریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک تمناؤں اور پرتپاک سلام کا اظہار کیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران اور سعودی عرب کے درمیان براہ راست حملوں کا یہ نیا سلسلہ مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ کی طرف دکھیل سکتا ہے، جس پر عالمی برادری اور خاص طور پر پاکستان شدید مضطرب ہے، اور اسلام آباد کی فعال سفارت کاری کا مقصد کسی بھی بڑے تصادم کو روکنا ہے۔

