تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

مظہر نے تفتیش کو فائلوں سے نکال کر گلیوں میں لے آیا۔ اس نے وردی اتار کر انسانوں میں گھلنے کا فیصلہ کیا۔ وہ جائے وقوعہ کے قریب مسجد میں جا کر نماز ادا کرتا، لوگوں سے میل جول بڑھاتا، گپ شپ کرتا گویا ایک پولیس اہلکار نہیں بلکہ محلے کا ایک عام فرد بن گیا تھا۔ یہی وہ حکمت عملی تھی جس نے خاموش دیواروں کو بولنے پر مجبور کیا۔ ایک دن اسے ایک بظاہر معمولی بات کا علم ہوا جس دن نوجوان قتل ہوا، اسی دن مخالفین کی طرف سے چاول تقسیم کیے گئے تھے۔ پہلی نظر میں یہ ایک اتفاق لگتا تھا، مگر ایک تفتیشی ذہن کے لیے اتفاقات اکثر سوال بن جاتے ہیں۔ جب مخالف فریق کو بلایا گیا تو انہوں نے وضاحت دی کہ یہ ان کے مقتول بچے کا سالانہ ختم تھا۔ پولیس وقتی طور پر مطمئن ہوئی، بلکہ کچھ حد تک شرمندہ بھی کہ شاید وہ غلط سمت میں جا رہی تھی۔ لیکن مظہر نے اس “کہانی” کو حقیقت ماننے سے انکار کر دیا۔ اس نے ایک اور راستہ اپنایا لوگوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران ایک دن اس نے ایک نئے دوست سے یونہی پوچھ لیا “کیا آپ نے بھی وہ چاول کھائے تھے؟” جواب غیر معمولی تھا۔ اس شہری نے خوشی سے بتایا کہ وہ چاول عام نہیں تھے بلکہ “متنجن” تھے میٹھے چاول، جن میں میوہ، بادام اور دیگر لوازمات شامل تھے، اور وہ بھی غیر معمولی مقدار میں تقسیم کیے گئے۔ یہیں سے کہانی نے نیا رخ لیا۔
سوچنے کی بات یہ تھی کہ غم کے موقع پر مٹھاس کیوں؟ سوگ کے دنوں میں خوشی کا اظہار کیوں؟ یہی تضاد مظہر کے شک کو یقین میں بدل گیا۔
جب دوبارہ تفتیش کی گئی اور سوال کا زاویہ بدلا گیا تو ملزمان ٹوٹ گئے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کے قاتل کو اسی تاریخ پر قتل کیا اور اس “بدلے” کی خوشی میں میٹھے چاول تقسیم کیے۔
یہ قتل ایک کھلا سبق ہے۔ جرم صرف ہتھیار سے نہیں ہوتا، وہ ذہن میں جنم لیتا ہے اور اکثر اپنے پیچھے ایسے نقوش چھوڑ جاتا ہے جو بظاہر معمولی مگر درحقیقت فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ ایک تربیت یافتہ دماغ، باریک بینی اور صبر اس سے کہیں زیادہ طاقتور ہتھیار ہیں۔ معاشرتی رویے کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ خوشی، غم، تقسیم، میل جول یہ سب انسان کے اندرونی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک تفتیش کار اگر ان اشاروں کو پڑھنا سیکھ جائے تو سچ زیادہ دور نہیں رہتا۔
ایک کانسٹیبل کا مسجد میں جا کر لوگوں کے درمیان بیٹھنا بظاہر معمولی عمل تھا، مگر اسی نے ایک اندھے قتل کو بولنے پر مجبور کر دیا۔
چاولوں میں چھپا قتل کا راز، سالانہ ختم کی مٹھاس نے جرم کو بے نقاب کیا، عمر ورک کی سلیکشن کام کر گئی

