راولپنڈی: چلتی گاڑی میں بیوی کا گینگ ریپ، ویڈیو وائرل ہونے پر شوہر کو ہارٹ اٹیک؛دم توڑ گیا۔ چار ملزمان گرفتار اعترافِ جرم کرلیا، متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈال کر قانونی کارروائی سے روکنے والے کو بھی گرفتار کرلیا گیا،
راولپنڈی پولیس نے چلتی ہوئی گاڑی میں ہونے والے مبینہ گینگ ریپ کے واقعہ میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ اس کے علاوہ گاؤں کی پنچائیت کے ایک شخص کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے جنھوں نے مبینہ طو پر گینگ ریپ کا شکار ہونے والی لڑکی اور اس کے ورثا کو ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے روک دیا تھا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس واقعہ کا سن کر اور ’اپنی بیوی کی سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے پر متاثرہ لڑکی کے شوہر یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکے، انھیں ہارٹ اٹیک ہوا جس سے وہ وفات پا گئے۔‘
گینگ ریپ کا یہ واقعہ تھانہ روات کے علاقے چک بیلی روڈ پر پیش آیا جہاں پر چار افراد نے چلتی گاڑی میں شادی شدہ لڑکی کو مبینہ گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔
اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل سب انسپکٹر وسیم سرور کا دعویٰ ہے کہ حراست میں لیے جانے والے افراد نے تفتیش کے دوران پولیس کے سامنے اقرار جرم بھی کر لیا ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں نامزد چاروں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ ان کی شناخت پریڈ بھی کروائی گئی جس میں متاثرہ لڑکی نے ملزمان کو شناخت کر لیا جس کے بعد ملزمان کا متعلقہ عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے۔
پولیس نے اس مقدمے سے متعلق ’جو معلومات حاصل کی ہیں اس کے مطابق ’متاثرہ لڑکی کا خاوند ایک بااثر شخص کے فارم ہاؤس پر کام کرتا تھا جس کو ملزمان نے اپنے کسی عزیز کے فارم ہاوس پر کام کرنے کا کہا جس پر متاثرہ لڑکی کے شوہر نے یہ آفر قبول کرنے سے انکار کر دیا۔‘
پولیس اہلکار کا دعویٰ ہے کہ وقوعہ سے چند روز قبل اس معاملے پر متاثرہ لڑکی کے شوہر اور ملزمان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا تھا جس کے بعد پولیس اہلکار کا دعویٰ ہے کہ ’ملزمان نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے ان کی آفر کو ٹھکرا کر ان کی عزت کا خیال نہیں رکھا تو اس کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔‘
تفتیش کے دوران ملزمان کے قبضے سے وہ ویڈیوز بھی برآمد کر لی گئی ہیں جو انھوں نے متاثرہ خاتون کے گینگ ریپ کے دوران بنائیں تھیں۔پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ملزمان نے وقوعہ کے دوران بنائی گئیں ویڈیوز میں سے چند کو سوشل میڈیا پر وائرل بھی کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس جوڑے کی چند سال قبل شادی ہوئی تھی اور ان کے دو بیٹے ہیں جن کی عمریں تین اور ایک سال کی ہیں۔اس مقدمے کی مدعیہ اور متاثرہ خاتون کی والدہ نے الزام عائد کیا ہے کہ گینگ ریپ کے واقعہ میں متاثرہ لڑکی کی نند اور ساس بھی شامل ہیں۔
روات پولیس سٹیشن میں گینگ ریپ کا شکار ہونے والی لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں انھوں نے موقف اختیار کیا کہ ان کی انیس سالہ بیٹی اپنے گاؤں سے روات بازار جانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے طور پر چلنے والی وین میں سوار ہوئی تھی کہ وین کے کنڈیکٹر نے دروازہ بند کر کے گاڑی کا رخ چک بیلی روڈ کی طرف موڑ دیا۔
اس مقدمے میں مدعیہ کی طرف سے یہ موقف بھی اختیار کیا گیا کہ ملزمان نے پہلے بگا شیخاں کے قریب ان کی بیٹی کو ایک خالی گھر میں لے جانے کی کوشش کی تاہم مدعیہ کے مطابق ان کی بیٹی کی طرف سے شور شرابہ کرنے پر ملزمان اسے گاڑی میں بٹھا کر علاقے میں گھماتے رہے اور چار ملزمان مدعیہ کی بیٹی کو چلتی گاڑی میں گینگ ریپ کا نشانہ بناتے رہے۔اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے متاثرہ لڑکی کو زبان کھولنے پر ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔

