واشنگٹن ڈی سی : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے دی گئی مہلت میں صرف اس لیے 24 گھنٹے کا اضافہ کر دیا ہے کیونکہ وہ ایسٹر کے موقع پر "اچھا انسان” بننا چاہتے ہیں۔ تاہم، اس ‘رحم دلی’ کے پیچھے چھپی دھمکی انتہائی ہولناک ہے: "اگر کل تک بات نہ مانی تو ایران میں نہ کوئی پل بچے گا اور نہ کوئی بجلی گھر!”
"پتھر کا زمانہ، ہاں!”: ٹرمپ کی ہولناک وارننگ
نیوز کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے ایران کو واضح طور پر ‘پتھر کے زمانے’ میں واپس بھیجنے کی دھمکی دہرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ کل شام 8 بجے جب مہلت ختم ہوگی، تو ان کے پاس ایران کے سول انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا:
"کل کے بعد ان کے پاس کوئی بجلی گھر نہیں ہوگا، کوئی پل نہیں ہوگا۔ پتھر کا زمانہ۔۔۔ ہاں، بالکل وہی!”
155 طیاروں کا ‘تاریخی’ ریسکیو مشن
صدر ٹرمپ نے ایران میں مار گرائے گئے دو امریکی پائلٹس کے ریسکیو آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے اسے ایک ‘فلمی سین’ کی طرح پیش کیا۔
-
عظیم الشان طاقت: اس مشن میں 155 طیاروں نے حصہ لیا، جن میں 4 بمبار، 64 فائٹر جیٹس اور 48 ری فیولنگ ٹینکرز شامل تھے۔
-
بہادر افسر: ایک امریکی افسر 48 گھنٹے تک ایرانی پہاڑوں میں دشمن سے بچتا رہا۔
-
تباہی: ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ انہیں کچھ طیارے وہیں چھوڑنے پڑے، لیکن ایرانیوں کے ہاتھ کچھ لگنے سے پہلے ہی امریکی فوج نے ان طیاروں کو خود ہی تباہ کر دیا۔
تیل پر قبضہ اور ‘ٹول ٹیکس’: ٹرمپ کا انوکھا منصوبہ
جب صحافیوں نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے حوالے سے سوال کیا، تو ٹرمپ نے اپنے مخصوص کاروباری انداز میں ایک نئی منطق پیش کی۔
-
تیل پر قبضہ: ٹرمپ نے کہا کہ اگر ان کا بس چلتا تو وہ ایران کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیتے اور اس سے بہت پیسہ کماتے۔
-
امریکی ٹول پلازہ: ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، "ٹول ٹیکس ہم وصول کریں گے، کیونکہ ہم جیتنے والے ہیں۔ ہمارے پاس اس کا پورا منصوبہ ہے۔”
نیٹو اور برطانیہ سے ‘شدید مایوسی’
صدر ٹرمپ نے اپنے روایتی اتحادیوں، خاص طور پر برطانیہ اور نیٹو ممالک کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان ممالک سے سخت مایوس ہیں کیونکہ انہوں نے ایران کے خلاف فوجی مشن میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ ان کے بقول، "برطانیہ نے ہمیں سب سے زیادہ مایوس کیا۔”
وزیرِ دفاع کی تائید: "صدر مذاق نہیں کر رہے”
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی صدر کے لہجے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس اب انتخاب کا وقت ختم ہو رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ "یہ صدر مذاق نہیں کرتا”، اس لیے ایران کو سمجھداری سے فیصلہ کرنا چاہیے ورنہ نتائج جان لیوا ہوں گے۔


