تہران/یروشلم/واشنگٹن:مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ پیر کی صبح اسرائیل اور امریکا نے ایران کے مختلف شہروں پر بمباری کر کے نہ صرف اہم عسکری شخصیات کو نشانہ بنایا بلکہ شہری انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد تہران نے "تباہ کن” جوابی کارروائی کا انتباہ جاری کیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے باقاعدہ تصدیق کی ہے کہ ان کے انٹیلی جنس چیف ماجد خادمی پیر کی صبح ایک مشترکہ امریکی و اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع کاٹز نے اس کامیابی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ایرانی قیادت خود کو نشانے پر محسوس کر رہی ہے، ہم انہیں چن چن کر ختم کریں گے۔” انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی اسٹیل اور پیٹروکیمیکل صنعت کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
پیر کی صبح ایرانی دارالحکومت تہران کے قریب اسلامشار میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں 13 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ مقدس شہر قم میں بھی فضائی حملے کے نتیجے میں 5 شہری لقمہ اجل بن گئے۔ مزید برآں، تہران کی مشہور شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور اس کے قریب واقع گیس ڈسٹری بیوشن سینٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے تعلیمی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے فرانسیسی ہم منصب سے گفتگو میں امریکی دھمکیوں کو ’نسل کشی کو معمول بنانا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہری تنصیبات پر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ نے واضح کیا ہے کہ:
"اگر شہری اہداف کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو ہماری جوابی کارروائی پہلے سے کہیں زیادہ وسیع اور تباہ کن ہوگی۔”
دوسری جانب فرانس نے بھی شہری ڈھانچے پر حملوں کو خطے کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں، جس نے عالمی منڈیوں اور سکیورٹی ماہرین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
اسرائیلی حملہ،یونیورسٹیاں نشانے پر: ایران کے انٹیلی جنس چیف ماجد خادمی سمیت 18 شہید،شہری انفراسٹرکچر پر حملہ ہوا توجواب فیصلہ کن،بھرپور ہوگا: عباس عراقچی

