لاہور (خصوصی رپورٹر): پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹ کمیٹی (PAC-1) کے اجلاس میں تحریک انصاف کے دورِ حکومت کے دوران محکمہ آبپاشی میں سینکڑوں بوگس ملازمین کی بھرتیوں کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ ا
ن بھرتیوں کے نتیجے میں قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگایا گیا، جس پر کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیس مزید کارروائی کے لیے نیب (NAB) کو بھیج دیا ہے۔آڈٹ رپورٹ اور کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے حقائق کے مطابق بوگس ملازمین کی غیر قانونی بھرتیوں اور انہیں دی جانے والی تنخواہوں کی مد میں 87 ملین روپے کی سنگین مالی بدعنوانی سامنے آئی ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ دور میں محکمہ آبپاشی میں میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے من پسند اور ’گھوسٹ‘ (کاغذی) ملازمین بھرتی کیے گئے جن کا وجود صرف سرکاری کاغذات تک محدود تھا۔
پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کا سخت ایکشن
چیئرمین پبلک اکاؤنٹ کمیٹی ون، افتخار چھچھر نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اس پورے اسکینڈل کی تحقیقات قومی احتساب بیورو (نیب) سے کروائی جائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
صرف بھرتی کرنے والے ہی نہیں، بلکہ وہ تمام بوگس ملازمین جنہوں نے غیر قانونی طور پر فائدہ اٹھایا، ان کے خلاف بھی فوری ایکشن لیا جائے۔ چیئرمین نے نیب سے درخواست کی ہے کہ اس حساس معاملے کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔

