واشنگٹن :بی بی سی کے مطابق ایران میں تباہ ہونے والے ایف-15 طیارے کے لاپتہ رُکن کی تلاش کے لیے امریکا نے اپنے سینکڑوں کمانڈوز، کئی درجن جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹرز استعمال کئے
بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق اب تفصیلات سامنے آ رہی ہیں کہ کس طرح ایئر مین، ویپنز سسٹم آفیسر (ّWSO) جو ایف-15 سٹرائیک ایگل کی دوسری سیٹ پر بیٹھتا ہے، جنوبی ایران میں ریسکیو کیے جانے کے دوران زخمی ہوا۔
ریسکیو کیے گئے کرنل کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم علامتی طور پر اسے یہاں ’ویزو‘ لکھا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ’ویزو‘ کو کچھ زخم آئے ہیں، لیکن بتایا جاتا ہے کہ 24 گھنٹے سے زائد عرصے تک پکڑے جانے سے بچنے کے لیے کوشاں رہے اور اس دوران ان کے پاس صرف ایک ہینڈ گن تھی۔
مشاهد من عملية إنقاذ الطيار الأميركي التي قال عنها دونالد ترمب إنها من أكثر عمليات البحث والإنقاذ جرأة في تاريخ أميركا
قناة الحدث pic.twitter.com/nda3niSYf2
— الحدث EXTRA (@alhadathextra) April 5, 2026
اطلاعات کے مطابق امریکی افواج نے ایرانی فوجیوں کو افسر کے مقام سے دور رکھنے کے لیے بموں اور ہتھیاروں کا استعمال کیا اور امریکا اور ایران کی فوج کے مابین فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔
ریسکیو میں استعمال ہونے والے پانچ امریکی ٹرانسپورٹ طیاروں میں سے دو ایران کے اندر سے ٹیک آف کرنے کے قابل نہیں تھے۔ انھیں پکڑے جانے سے روکنے کے لیے تباہ کر دیا گیا۔
مشاهد متداولة لحطام طائرات أميركية في إيران بعد الإعلان عن إنقاذ الطيار المفقود بعملية محفوفة بالمخاطر
قناة الحدث pic.twitter.com/k9NgLUljlm
— الحدث EXTRA (@alhadathextra) April 5, 2026
امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کا کردار
سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق، سی آئی اے نے ریسکیو آپریشن میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
اطلاعات کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسی نے ایک پہاڑی شگاف میں ایئر مین کا سراغ لگایا اور ایئر مین کی صحیح جگہ پینٹاگون تک پہنچا دی۔
اس دوران سی آئی اے کی جانب سے ایران کے اندر یہ معلومات پھیلائی گئیں کہ ایئرمین پہلے ہی مل چکا ہے اور اب اسے ایران سے نکالا جا رہا ہے۔ حالانکہ اس وقت تلاش کی کوششیں جاری تھیں۔
BREAKING: CENTCOM sources confirm that not just one, but two aircraft were destroyed inside Iran by U.S. forces, along with two helicopters of the U.S. Army’s 160th SOAR.
The two aircraft were one HC-130J and one MC-130J. The crews of these aircraft and two MH-6M helicopters,… pic.twitter.com/r4mN7Y8Acw
— Babak Taghvaee – The Crisis Watch (@BabakTaghvaee1) April 5, 2026
سی بی ایس نے وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے فوری طور پر ریسکیو کا حکم دیا تھا۔
ٹرمپ نے بعد میں ٹروتھ سوشل پر کہا: ’میری ہدایت پر، امریکی فوج نے ریسکیو کرنے کے لیے درجنوں طیارے بھیجے، جو دنیا کے سب سے مہلک ہتھیاروں سے لیس تھے۔ انھیں (ریسکیو کیے گئے افسر) چوٹیں آئیں، لیکن وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔‘

