ہیوسٹن / کراچی: امریکا کی جیل میں قید پاکستانی نیورو سائنٹسٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خاندان کے حوالے سے ایک انتہائی افسوسناک اور لرزہ خیز خبر سامنے آئی ہے۔ ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نوجوان بھتیجے عماد صدیقی کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ کراچی میں مقیم صدیقی خاندان نے اس المناک واقعے کی تصدیق کر دی ہے جس کے بعد خاندان پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں۔
تین نامعلوم مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ، ملزمان فرار؛ کیا یہ نفرت انگیز جرم تھا یا کوئی گہری سازش؟ کراچی میں سوگ کا سماں ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق عماد صدیقی پر اس وقت حملہ کیا گیا جب تین نامعلوم مسلح افراد نے ان کا راستہ روکا اور ان پر گولیاں برسا دیں۔ حملہ آور واردات کے فوراً بعد جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ہیوسٹن پولیس نے ابھی تک ملزمان کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی قتل کے پیچھے چھپے اصل محرکات کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری کیا ہے۔
خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا، بالخصوص ریاست ٹیکساس میں مسلم مخالف جذبات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ ابھی تک اس حملے کا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس سے کوئی براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہو سکا ہے، لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر صارفین کی بڑی تعداد اسے عافیہ صدیقی کے خاندان کے خلاف دشمنی اور نفرت کا شاخسانہ قرار دے رہی ہے۔
ہیوسٹن کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس قریبی لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور عینی شاہدین کے بیانات کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تفتیشی حکام اس پہلو پر بھی غور کر رہے ہیں کہ آیا یہ ایک ٹارگٹڈ حملہ تھا، نفرت انگیز جرم (Hate Crime) تھا یا محض ایک مجرمانہ کارروائی۔
کراچی میں موجود ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اہل خانہ نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور عماد صدیقی کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے کڑی سزا دی جائے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی ڈاکٹر عافیہ کی قید کی وجہ سے برسوں سے ذہنی اذیت کا شکار ہیں اور اب اس نوجوان کی موت نے انہیں جیتے جی مار دیا ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی: بھتیجا عماد صدیقی ہیوسٹن میں قتل

