تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

کیا ایک بیٹے کی اپنے بیمار باپ کے پاس ہونے کی خواہش بھی کسی انتظامی ناراضگی کی نذر ہو سکتی ہے؟ جہانزیب نذیر خان نے پھر بھی ہمت نہ ہاری۔ وہ دو محاذوں پر لڑتے رہے ایک اپنے فرائض کا، دوسرا اپنے جذبات کا۔ آئی جی خیبر پختونخواہ ذوالفقار حمید کی جانب سے انہیں لاہور جا کر والد کی خدمت کی اجازت دینا ایک انسانی پہلو کی جھلک ضرور تھی، مگر یہ عارضی سہارا اس خلا کو پر نہ کر سکا جو مستقل تبادلے کی صورت میں ممکن تھا۔وقت اپنی رفتار سے چلتا رہا… بیماری بڑھتی رہی اور ایک دن وہ لمحہ آ گیا جس سے ہر بیٹا خوفزدہ رہتا ہے۔ والد دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اب نہ کوئی درخواست باقی تھی، نہ کوئی وعدہ، نہبیٹے کو اس کرب سے بچا سکتی تھی؟
یہ کیا ہم واقعی اتنے مصروف ہو چکے ہیں کہ ایک بیٹے کو اس کے مرتے کوئی منتظر آنکھیں۔ صرف ایک خاموشی تھی اور ایک ایسا خلا جو کبھی پُر نہیں ہو سکتا۔ نمازِ جنازہ میں شریک پولیس کے افسران کی سرگوشیاں بھی ایک سوال بن کر گونجتی رہیں کیا یہ سب روکا جا سکتا تھا؟ کیا تھوڑی سی ہمدردی، تھوڑی سی انسانیت ایک ہوئے باپ کے پاس بھی کھڑا نہیں ہونے دے سکتے؟ مرحومسب سے بڑی کمی قانون یا اختیار کی نہیں، بلکہ احساس کی ہوتی ہے۔
کے لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، اور پسماندگان کو صبر عطا کرے۔ لیکن اس واقعے نے ایک نشان چھوڑ دیا ہے ایک ایسا نشان جو یاد دلاتا رہے گا کہ کبھی کبھی سب سے بڑی کمی قانون یا اختیار کی نہیں، بلکہ احساس کی ہوتی ہے۔

