ملتان/کراچی (آصف چوھدری ): ایک حالیہ سائنسی تحقیقات نے اس بات کے پختہ شواہد فراہم کر دیے ہیں کہ ملتان میں ڈائلائسز کروانے والے مریضوں میں ایچ آئی وی (HIV) یا ایڈزکی انفیکشن کی منتقلی کسی بیرونی کمیونٹی سے نہیں بلکہ براہِ راست ہسپتال کے ماحول اور علاج کے دوران ہوئی۔ اس انکشاف نے ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے ناقص طریقہ کار اور انتظامی غفلت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ اہم مطالعہ تین مایہ ناز محققین — سید فیصل محمود، حسنین جاوید اور عائشہ شہباز — نے انجام دیا ہے۔ اس تحقیق میں آغا خان یونیورسٹی، پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام اور نذر بائیوف یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن، قازقستان کے شعبہ بائیو میڈیکل سائنسز نے ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا۔
واحد ذریعہ (Point-Source Outbreak): محققین کی ریسرچ میں انکشاف ہواکہ کہ تمام کیسز آپس میں گہرے جڑے ہوئے تھے، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ انفیکشن کسی ایک ہی مشترکہ ذریعے سے پھیلا ہے، نہ کہ یہ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے الگ الگ کیسز ہیں۔
انفیکشن کی منتقلی کا وقت 2023 اور 2024 کے درمیان کا ہے، جو ان مریضوں کے ڈائلائسز یونٹ میں علاج کروانے کے دورانیے سے مکمل میل کھاتا ہے۔
تحقیقات کے سارے سرے ملتان کے بڑے سرکاری ہسپتال، نشتر ہسپتال میں آکرختم ہوتے ہیں ، جہاں نومبر 2024 میں گردوں کے عارضے میں مبتلا ایک مریض جاں بحق ہوا تھا جبکہ 30 دیگر افراد ڈائلائسز کے دوران ایچ آئی وی کا شکار ہو گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق، متاثرہ مریضوں کی اکثریت میں منشیات کے استعمال جیسے روایتی خطرات موجود نہیں تھے۔ حیران کن طور پر ان میں سے بڑی تعداد ہیپاٹائٹس سی میں بھی مبتلا تھی، جو کہ عام طور پر طبی آلات کی ناقص صفائی (Sterilization)، آلات کے دوبارہ استعمال یا خون کے نمونوں کو غیر محفوظ طریقے سے سنبھالنے کا نتیجہ میں ہوتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ایچ آئی وی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
2021 تک پاکستان میں ایچ آئی وی متاثرین کی تعداد 2 لاکھ 10 ہزار تک پہنچ چکی تھی۔
ہائی رسک گروپس میں انجکشن کے ذریعے منشیات لینے والوں میں شرح 38 سے 40 فیصد، جبکہ خواجہ سرا سیکس ورکرز میں 11 فیصد ہے۔
یادرہے اس کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ 1 لاکھ 60 ہزار متاثرین میں سے صرف 36 ہزار جانتے ہیں کہ وہ بیمار ہیں، اور صرف 58,622 افراد علاج کروا رہے ہیں۔
تحقیق کے مطابق، پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں میں ایچ آئی وی کی آٹھ بڑے پھیلاؤ دستاویزی طور پر ریکارڈ کئے گئے، جن میں 2019 میں سندھ کا واقعہ شامل ہے جہاں 900 سے زائد بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوئے، جو بچوں میں دنیا کی سب سے بڑی وبا تھی۔
آغا خان یونیورسٹی میں کیے گئے ڈی این اے (DNA) اور پی سی آر (PCR) ٹیسٹ کے نتائج نے حیاتیاتی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ ملتان کے ڈائلائسز یونٹ میں انفیکشن کنٹرول کے ضوابط کی خلاف ورزی ہی اس وبا کی اصل وجہ تھی۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ جب ہسپتالوں کے اندر ایسے روکے جانے والے انفیکشن پھیلتے ہیں، تو یہ صرف طبی غلطی نہیں بلکہ ادارہ جاتی احتساب کا معاملہ بن جاتا ہے۔
(بشکریہ ڈان نیوز)

