تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

اس انکشاف کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ اگر کسی ملزم سے کم مقدار برآمد ہو تو باقی شراب کہاں سے لائی جاتی ہے؟ کیا پولیس کے پاس پہلے سے موجود ہوتی ہے یا جعلی طور پر شامل کی جاتی ہے؟ واضع رہے کہ یہی طرزِ عمل منشیات کی برآمدگی کے معاملات میں بھی اپنایا جا رہا ہے، جس سے پورا نظام مشکوک ہو جاتا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے اس صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایچ او کی سرزنش کی اور کہا کہ آپ نے غلط حکم کی تعمیل کیوں کی آپ کو چاہئے تھا ایس ایچ او شپ چھوڑ دیتے تاہم، مبینہ طور پر ایسے غیر قانونی احکامات دینے والے افسران کے خلاف کارروائی کا حکم نہیں دیا گیا
اگر لاہور جیسے بڑے شہر میں یہ صورتحال ہے تو دیگر اضلاع میں حالات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ تاہم ڈی آئی جی آپریشنز کی جانب سے اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا اور ممکنہ طور پر سسٹم کی خرابیوں کو بے نقاب کرنا ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

