امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ ’آج رات مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم بنیادی سٹریٹیجک مقاصد مکمل کرنے کے قریب ہیں۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ امریکہ، ایران کے خلاف جنگ میں اپنے مقاصد کی’تکمیل کے قریب‘ ہے اور اس تنازعے میں ’زبردست فتوحات‘ حاصل کرنے پر انہوں نے امریکی افواج کی تعریف کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ان گذشتہ چار ہفتوں میں ہماری مسلح افواج نے میدان جنگ میں تیز، فیصلہ کن اور زبردست فتوحات حاصل کی ہیں، ایسی فتوحات جیسی اس سے پہلے کم ہی لوگوں نے دیکھی ہوں گی۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے خلیجی عرب اتحادیوں اور اسرائیل کو ’نقصان اٹھانے یا ناکام ہونے‘ نہیں دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی کارروائیوں کے 32 دن بعد، ایران ’واقعی اب کوئی خطرہ نہیں رہا۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہماری پیش رفت کی بدولت، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم جلد ہی اپنے تمام فوجی اہداف مکمل کرنے کی راہ پر ہیں۔
’ہم آنے والے چند ہفتوں میں ان پر شدید حملے کریں گے اور انہیں واپس پتھر کے دور میں لے جائیں گے جہاں سے ان کا تعلق ہے۔‘
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرنے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ ’ہمت‘ کریں اور اس اہم آبی گزرگاہ پر قبضہ کر لیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، ’دنیا کے وہ ممالک جو آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرتے ہیں، انہیں اس گزرگاہ کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔ بس اس پر قبضہ کریں، اس کی حفاظت کریں، اسے اپنے لیے استعمال کریں۔‘
’ہم نے ایران کو فوجی اور معاشی طور پر بری طرح کمزور کر دیا ہے۔ جو ممالک آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل حاصل کرتے ہیں، اب انہیں اس گزرگاہ کی حفاظت خود کرنی ہوگی۔
’ہم مدد کریں گے، لیکن انہیں اس تیل کے تحفظ میں خود قیادت کرنی چاہیے جس پر وہ شدت سے انحصار کرتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’وہ ممالک جو ایندھن حاصل نہیں کر سکتے، جن میں سے بہت سے ایران کے خلاف اس کارروائی میں شامل ہونے سے انکار کیا ان کے لیے میرے پاس تجویز ہے۔ وہ امریکہ سے تیل خریدیں، کچھ ہمت کریں اور آبنائے ہرمز خود لے لیں۔‘
انہوں نے ’مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین‘ کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ بہت عظیم رہے ہیں، اور ہم انہیں کسی بھی صورت، شکل یا طریقے سے نقصان اٹھانے یا ناکام نہیں ہونے دیں گے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ کے آغاز کے بعد اپنے پہلے قوم سے خطاب میں یہ کہنے کے بعد کہ امریکہ ایران پر حملے جاری رکھے گا، تیل میں 4 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا اور ایشیائی اسٹاک میں گراوٹ آگئی۔
ٹرمپ نے متضاد جواب دیے، ایک جانب کہا، آپریشن ایپک فیوری جاری رہے گا پھر کہا امریکہ ایران میں "کام ختم” کر دے گا اور فوجی آپریشن جلد ہی ختم ہو سکتا ہے۔
ایران کو پتھر کے دور میں واپس دھکیل دینگے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آپریشن ”ایپک فیوری“ جاری رکھنے کا اعلان

