لاہور : گنگارام ہسپتال میں گارڈ کے خون لینے پر صوبائی حکومت نے بلڈ ٹرانسفیوژن کے ڈائریکٹر کو عہدے سے برطرف کردیا۔
تفصیلات کے مطابق گنگارام ہسپتال لاہورمیں گارڈ کی جانب سے مریض کے خون کے نمونے لینے کے واقعے پر ہسپتال کے ادارہ برائے بلڈ ٹرانسفیوژن کے ڈائریکٹر فرحان رشید کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ٹرانسفیوژن کے عملے کی مبینہ غفلت ثابت ہونے پر ان کے خلاف یہ کارروائی کی گئی، پروفیسر ڈاکٹر شبنم بشیر کو ادارہ برائے بلڈ ٹرانسفییوژن کی نئی ڈائریکٹر تعینات کر دیا گیا، محکمہ صحت پنجاب نے ان کی تعیناتی کا نوٹیفیکشن جاری کردیا۔
وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ آپ ترقی کس کو کہتی ہیں ؟ اگر یہ لاہور شہر کا حال ہے تو باقی صوبہ پنجاب کی صورت حال کیا ہو گی ؟؟@MaryamNSharif سرکاری ہسپتالوں میں علاج سیکیورٹی گارڈز کے حوالے، لیڈی ولنگٹن کے بعد گنگا رام ہسپتال میں گارڈ ڈاکٹر بن گیا pic.twitter.com/GIuSOXULjI
— Qaisar Sharif (@Qaisarsharif555) March 31, 2026
بتایا جارہا ہے کہ لاہور کے گنگا رام ہسپتال میں انتظامی غفلت کا ایک سنگین واقعہ سامنے آیا ہے جہاں سکیورٹی گارڈ گائنی ایمرجنسی کے بلڈ بینک میں مریضوں سے خون نکالتا رہا، اس واقعے کی فوٹیج بھی منظرعام پر آئی، جس میں دیکھا گیا کہ بلڈ بینک میں طبی عملہ موجود نہیں تھا اور سکیورٹی گارڈ ہی مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کر رہا تھا، مریضوں کو بلڈ بیگ لگانے کا کام بھی گارڈ کے سپرد کیے جانے کا انکشاف ہوا، خون نکالنے کے بعد بینڈیج تک دستیاب نہیں تھی جس کے باعث لواحقین خود مریضوں کی وین دبا کر خون روکتے دکھائی دیئے۔
علاوہ ازیں واقعے پر بننے والی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی رپورٹ میں بھی ہوشربا انکشاف سامنے آئے کہ گنگارام ہسپتال کے بلڈ بینک میں شام اور رات کےاوقات میں بلڈ ٹرانسفیوژن آفیسر تعینات نہیں، ان اوقات میں بلڈ بینک میں کسی نرس کی بھی تعیناتی نہیں، رات کے اوقات میں تعینات عملہ ڈیوٹی مکمل نہیں کرتا، عملے کی عدم دستیابی کے باعث واقعے میں ملوث سکیورٹی گارڈ بلڈ بینک پر تعینات تھا۔

