لندن+برسلز:امریکا کی نیٹو (NATO) سے ممکنہ علیحدگی ایک ایسا جغرافیائی و سیاسی زلزلہ ہوگا جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی امن کے ڈھانچے کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گا۔
امریکا کے بغیر نیٹو: یورپی دفاع کا مستقبل اور چیلنجز
1. سکیورٹی کا بڑا خلا (Security Vacuum)
نیٹو کے کل دفاعی بجٹ کا تقریباً 70 فیصد تنہا امریکا فراہم کرتا ہے۔ امریکہ کے نکل جانے سے یورپ ایک ایسی حفاظتی چھتری سے محروم ہو جائے گا جس نے اسے دہائیوں سے روس جیسے حریفوں سے بچا رکھا ہے۔
ایٹمی ڈیٹرنس کا خاتمہ: یورپ کا ایٹمی دفاع زیادہ تر امریکی ہتھیاروں پر منحصر ہے۔ امریکہ کے بغیر، صرف فرانس اور برطانیہ ایٹمی طاقتیں رہ جائیں گی، جو پورے یورپ کی حفاظت کے لیے ناکافی ہو سکتی ہیں۔
2. یورپی یونین کی اپنی فوج (European Army)
امریکہ کے جانے کی صورت میں یورپی ممالک، خاص طور پر جرمنی اور فرانس، ایک "یورپی ڈیفنس یونین” بنانے پر مجبور ہو جائیں گے۔
مشترکہ کمانڈ: یورپی ممالک کو اپنی الگ فوج، انٹیلی جنس نیٹ ورک اور کمانڈ سسٹم بنانا پڑے گا۔
جرمنی کا نیا کردار: جرمنی، جو تاریخی وجوہات کی بنا پر اپنی عسکری قوت محدود رکھتا تھا، اب یورپ کا سب سے بڑا دفاعی ستون بن کر ابھرے گا۔
3. روس کے لیے سنہری موقع
صدر ٹرمپ کا نیٹو کو "کاغذی شیر” قرار دینا کریملن (روس) کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔
مشرقی یورپ کا خطرہ: پولینڈ، اسٹونیا، لیٹویا اور لیتھوانیا جیسے ممالک جو روس کی سرحد پر واقع ہیں، سب سے زیادہ غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ روس ان ممالک پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے یا یوکرین کی طرح مداخلت کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
4. دفاعی بجٹ میں ہوش ربا اضافہ
یورپی ممالک کو اپنی جی ڈی پی (GDP) کا ایک بڑا حصہ اب سماجی بہبود (Social Welfare) کے بجائے دفاع پر خرچ کرنا پڑے گا۔
ٹیکنالوجی کی کمی: یورپ کے پاس امریکی سیٹلائٹ سسٹم، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور جدید ٹرانسپورٹ طیاروں کی شدید کمی ہے، جن کی تیاری میں دہائیاں اور کھربوں ڈالرز درکار ہوں گے۔
5. برطانیہ کی تنہائی
جیسا کہ ٹرمپ نے کہا کہ "برطانیہ کے پاس بحریہ نہیں ہے”، امریکا کے نکلنے سے برطانیہ کی اسٹریٹجک اہمیت مزید کم ہو جائے گی۔ اسے اب یا تو مکمل طور پر امریکا کا دستِ نگر بننا ہوگا یا پھر یورپی یونین کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو ازسرِ نو بحال کرنا ہوگا۔
امریکا کا نیٹو سے نکلنا "یورپ کے لیے قیامت کی گھڑی” ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک فوجی علیحدگی ہوگی بلکہ مغربی جمہوری اقدار کے اس اتحاد کا خاتمہ ہوگا جس نے سرد جنگ جتوائی تھی۔ یورپ کو اب "امریکی بیساکھیوں” کے بغیر چلنا سیکھنا ہوگا، ورنہ وہ بکھر کر علاقائی طاقتوں کے رحم و کرم پر آ جائے گا۔
نیٹو کیا ہے؟
نیٹو (NATO) یعنی ‘شمالی اوقیانوس معاہدے کی تنظیم’ (North Atlantic Treaty Organization) یورپ اور شمالی امریکہ کے 32 ممالک کے درمیان ایک فوجی اور سیاسی اتحاد ہے، جو 4 اپریل 1949ء کو قائم ہوا۔ اس کا بنیادی مقصد رکن ممالک کی آزادی اور سلامتی کا اجتماعی دفاع (Collective Defence) کرنا ہے، یعنی کسی ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوتا ہے۔
اہم نکات:
قیام اور مرکز: یہ تنظیم سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے بنائی گئی تھی، جس کا صدر دفتر برسلز، بیلجیم میں ہے۔
اجتماعی دفاع (آرٹیکل 5): نیٹو کے چارٹر کے آرٹیکل 5 کے تحت، اگر کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ ہوتا ہے، تو تمام رکن ممالک مل کر اس کا دفاع کریں گے۔
ارکان کی تعداد: اس وقت نیٹو میں 32 رکن ممالک شامل ہیں، جس میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، فرانس اور دیگر یورپی ممالک شامل ہیں۔
اہمیت: یہ اتحاد رکن ممالک کی سلامتی کو یقینی بناتا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر مبنی دفاعی پالیسی پر کام کرتا ہے۔
وارسا پیکٹ (Warsaw Pact):
نیٹو کے جواب میں، سوویت یونین نے 1955ء میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ‘وارسا پیکٹ’ نامی فوجی اتحاد بنایا تھا، جو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ختم ہو گیا۔

