کنشاسا/واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن کے خلاف جاری ‘آہنی مہم’ کے تحت ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے۔ جنوبی امریکا سے تعلق رکھنے والے 15 تارکینِ وطن کا پہلا گروہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (DRC) پہنچ گیا ہے۔ یہ وہ افراد ہیں جنہیں امریکا نے بے دخل کیا ہے، لیکن اپنے آبائی ملک کے بجائے انہیں ایک تیسرے ملک یعنی کانگو منتقل کیا گیا ہے۔
کنشاسا حکومت نے اس معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان تارکینِ وطن کا ملک میں قیام محض عارضی ہے۔ حکومت کے مطابق ان افراد کے استقبال، قیام اور دیکھ بھال کے تمام اخراجات امریکی حکومت (واشنگٹن) برداشت کر رہی ہے۔
کانگو کا یہ فیصلہ "انسانی ہمدردی” اور "بین الاقوامی یکجہتی” کے عزم کا حصہ ہے۔
حکام نے زور دیا ہے کہ یہ کوئی مستقل آبادکاری کا منصوبہ نہیں ہے، بلکہ ایک عارضی انتظام ہے۔
امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے سفارتی رابطوں پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم یہ واضح کیا کہ انتظامیہ "غیر قانونی اور بڑے پیمانے پر امیگریشن کو ختم کرنے اور سرحدوں کو محفوظ بنانے” کے اپنے عزم پر قائم ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے صدر ٹرمپ نے تارکینِ وطن کے خلاف سخت پالیسی اپنا رکھی ہے۔ امریکہ اس سے قبل بھی درجنوں افراد کو گھانا، جنوبی سوڈان اور ایسواتینی جیسے افریقی ممالک میں ڈی پورٹ کر چکا ہے۔
امریکا سے ڈی پورٹ کئے گئے غیر قانونی تارکین وطن کانگو منتقل؛ واشنگٹن تمام اخراجات بھرے گا

