واشنگٹن :امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کو اپنی فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے اور جنگ سے دستبردار ہونے کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔ نیٹو کاغذی شیر، پوتن بھی جانتے ہیں ، سنجیدگی سے اتحاد چھوڑنے پر غور کررہے ہیں ۔
منگل کو اوول آفس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران، انہوں نے واضح کیا کہ امریکی انخلا کی ٹائم لائن کے حوالے سے ایک رسمی سفارتی معاہدہ ‘بے معنی’ ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکا دو سے تین ہفتوں میں جنگ ختم کر دے گا۔
برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکا کو نیٹو سے نکالنے پر ’سنجیدگی سے غور‘ کر رہے ہیں۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ نے نیٹو اتحاد کو ’کاغذی شیر‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ برطانیہ کے پاس بحریہ نہیں ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع کے بعد نیٹو میں امریکا کی رکنیت پر نظر ثانی کریں گے تو ٹرمپ کا کہنا تھا: ’اوہ ہاں، میں تو کہتا ہوں کہ یہ معاملہ اب نظرثانی سے بھی آگے جا چکا ہے۔۔۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا: ’میں کبھی بھی نیٹو سے قائل نہیں ہوا۔ میں ہمیشہ جانتا تھا کہ یہ ایک کاغذی شیر ہے اور یہ بات پوتن بھی جانتے ہیں۔‘
برطانیہ کے جنگی بحری بیڑے کی حالت کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا: ’آپ کے پاس تو بحریہ ہی نہیں ہے۔ آپ بہت پرانے ہیں اور آپ کے پاس ایسے طیارہ بردار جہاز تھے جو کام ہی نہیں کرتے۔‘
دوسری طرف امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر رہا ہے اور جنگ کا خاتمہ نظر آ رہا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ’آگے چل کر براہ راست ملاقات کا بھی امکان ہے۔ ہم اس کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔تاہم انھوں خبردار کیا کہ صدر ٹرمپ مذاکرات کو محض وقت حاصل کرنے کے لیے تاخیری حربے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا کوئی ٹائم لائن نہیں دے سکتے تاہم روبیو کے مطابق ’ہمیں فنش لائن دکھائی دے رہی ہے۔

