بغداد/واشنگٹن : عراق کے دارالحکومت بغداد سے ایک امریکی فری لانس خاتون صحافی، شیلی کٹلسن کے اغوا نے بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔ عراقی سکیورٹی فورسز اور امریکی حکام نے اس سنگین واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اغوا کاروں کے تعاقب کے دوران ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے، جس کا تعلق ایران نواز ملیشیا گروپ سے بتایا جاتا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ‘ال مانیٹر’ کے لیے کام کرنے والی شیلی کٹلسن کو منگل کی شام بغداد کے ایک علاقے سے نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا۔ عراقی وزارتِ داخلہ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اطلاع ملتے ہی اغوا کاروں کا پیچھا کیا۔تعاقب کے دوران اغوا کاروں کی ایک گاڑی توازن برقرار نہ رکھ سکی اور الٹ گئی، جس کے نتیجے میں ایک مشتبہ شخص کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، گرفتار شخص کا تعلق ایران کی حمایت یافتہ طاقتور عسکری تنظیم ’کتائب حزب اللہ‘ سے ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری ڈیلن جانسن نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحافی کی بحفاظت واپسی کے لیے عراقی حکام اور ایف بی آئی (FBI) کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
حیران کن طور پر، امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے کٹلسن کو ان کی جان کو لاحق خطرات کے بارے میں پہلے ہی متعدد بار خبردار کیا تھا، اور ان سے آخری رابطہ اغوا سے محض چند گھنٹے قبل پیر کی رات کو ہوا تھا۔
امریکی حکام نے معاملے کی حساسیت اور صحافی کی زندگی کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کٹلسن کو کہاں رکھا گیا ہے، تاہم عراقی انٹیلی جنس ادارے گرفتار مشتبہ شخص سے تفتیش کر رہے ہیں تاکہ اغوا کے ماسٹر مائنڈز تک پہنچا جا سکے۔
بغداد میں امریکی صحافی کا اغوا: ملیشیا کا مبینہ کمانڈر گرفتار، اغوا کاروں کی گاڑی الٹنے سے سنسنی خیز انکشافات

