واشنگٹن +تہران :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کی درخواست کے مطابق ایران کے توانائی پلانٹس پر حملوں کو 10 دن کے لیے روک رہے ہیں۔ جبکہ وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے ایسی کوئی درخواست نہیں کی
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران کے ساتھ بات چیت ’بہت اچھی‘ جا رہی ہے۔
انہوں نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا ’ایرانی حکومت کی درخواست کے مطابق… میں توانائی پلانٹس کی تباہی کی مدت کو 10 دن کے لیے مؤخر کر رہا ہوں تاکہ یہ پیر، چھ اپریل، 2026، شام 8 بجے (ایسٹرن ٹائم) تک بڑھ جائے۔
"As per Iranian Government request, please let this statement serve to represent that I am pausing the period of Energy Plant destruction by 10 Days to Monday, April 6, 2026, at 8 P.M., Eastern Time. Talks are ongoing and, despite erroneous statements to the contrary by the Fake… pic.twitter.com/LEURAJnRta
— The White House (@WhiteHouse) March 26, 2026
انہوں نے مزید کہا ’بات چیت جاری ہے اور جعلی نیوز میڈیا اور دیگر کی گمراہ کن باتوں کے برعکس، یہ بات چیت واقعی بہت اچھی جا رہی ہے۔‘
بعد میں انہوں نے فاکس نیوز کے پروگرام ’دی فائیو‘ میں بتایا ’میں نے انہیں 10 دن دیے تھے۔ انہوں نے سات دن مانگے تھے۔‘
ٹرمپ نے، جو ایران کی جنگ کے بارے میں اپنے اہداف اور ٹائم لائن کو تبدیل کرتے رہے ہیں، فاکس نیوز کو بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ جنگ جیت چکا ہے۔
انہوں نے کہا ’ایک لحاظ سے ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں۔‘
امریکی نیوز ویب سائٹ وال سٹریٹ جرنل نے جمعرات کو امن مذاکرات کے ثالثوں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ایران نے اپنی توانائی کی تنصیبات پر حملوں میں 10 روزہ وقفے کی کوئی درخواست نہیں کی اور نہ ہی جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے 15 نکاتی منصوبے پر اپنا حتمی جواب دیا ہے۔

