پام بیچ/تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک "جامع معاہدے” پر انتہائی سنجیدہ بات چیت جاری ہے، جس کے باعث انہوں نے ایرانی توانائی کی تنصیبات پر حملوں کو 5 روز کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ تاہم، تہران نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے محض "سیاسی شعبدہ بازی” قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کا ‘ماسٹر پلان’: 15 نکات اور جوہری ہتھیار
پالم بیچ پر ائیر فورس ون کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان 15 نکاتی فارمولے پر بات ہو رہی ہے۔
اولین ترجیح: ایران کا جوہری ہتھیاروں سے مکمل دستبرداری اختیار کرنا۔ ٹرمپ کے بقول، "یہ پہلا، دوسرا اور تیسرا نکتہ ہے۔”
نظام کی تبدیلی: صدر نے واضح کیا کہ وہ ایران میں "نظام کی بہت سنجیدہ تبدیلی” (رجیم چینج)دیکھنا چاہتے ہیں۔
خفیہ ٹیم: اس مشن میں ان کے قریبی مشیر سٹیو وٹکوف اور داماد جیریڈ کوشنر بھی متحرک ہیں۔
5 دن کا وقفہ اور ‘سلطان’ کی زندگی پر سوال
ٹرمپ نے ایک سنسنی خیز بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کے 10 ارب ڈالر مالیت کے بجلی گھروں کو تباہ کرنے کا منصوبہ 5 دن کے لیے روک دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ نے کسی "اعلیٰ ایرانی شخصیت” سے بات کی ہے، لیکن وہ موجودہ سپریم لیڈر (مجتبیٰ خامنہ ای) نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا، "ہمیں نہیں معلوم کہ وہ (رہبرِ اعلیٰ) زندہ ہیں بھی یا نہیں۔”
ایران کا کرارا جواب: "یہ صرف وقت حاصل کرنے کی کوشش ہے”
امریکی صدر کے بیان کے کچھ ہی دیر بعد ایرانی وزارتِ خارجہ نے باقاعدہ تردید جاری کر دی۔ ترجمان کے مطابق:
امریکہ کے ساتھ کسی قسم کی براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی۔
ٹرمپ کے بیانات کا مقصد محض تیل کی قیمتیں کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔
ثالثی کی کوششیں ضرور ہو رہی ہیں، لیکن ایران کا موقف واضح ہے کہ جنگ واشنگٹن نے شروع کی، وہی اسے ختم کرے۔
عالمی منڈیوں پر اثرات
صدر ٹرمپ کے صرف ایک سوشل میڈیا پیغام (کہ وہ حملے 5 دن کے لیے روک رہے ہیں) نے جادوئی اثر دکھایا:
خام تیل: قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
اسٹاک مارکیٹ: عالمی مالیاتی منڈیوں میں حصص کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوا۔
کیا یہ ‘سائیکولوجیکل وار’ ہے؟
مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اپنی روایتی "آرٹ آف دی ڈیل” کی حکمتِ عملی استعمال کر رہے ہیں۔ ایک طرف وہ "پوری قوت سے بمباری” کی دھمکی دے رہے ہیں اور دوسری طرف "امن کے بدلے جوہری پروگرام” کا آپشن پیش کر رہے ہیں۔ ایران کی تردید ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی عروج پر ہے۔

