واشنگٹن +تہران :صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران نے اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہ کھولا تو امریکا ایرانی بجلی گھروں کو صحۂ ہستی سے ’مٹا دے گا‘۔
عرب نیوز کے مطابق امریکا کی اس اس دھمکی کے جواب میں ایرانی فوج نے فوری طور پر جوابی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ پورے خطے میں امریکی توانائی، آئی ٹی اور ڈی سیلینیشن (پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے) انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا۔‘
یہ جارحانہ بیان بازی ایک خطرناک اور تشویش ناک نئی کشیدگی کی علامت ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ٹرمپ نے یہ الٹی میٹم فلوریڈا میں اپنے گھر سے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے جاری کیا جہاں وہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اندرونی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ’ایران اگر اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ نہیں کھولتا جو جاری تنازع کے باعث عملاً بند ہو چکی ہے تو امریکا ایران کے ’مختلف بجلی گھروں کو تباہ کر دے گا، اور آغاز سب سے بڑے بجلی گھر سے ہوگا۔‘
ایران کی فوجی آپریشنل کمان خاتم الانبیا نے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دیا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پہلے دی گئی دھمکیوں کے بعد دشمن اگر ایران کے ایندھن اور توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بناتا ہے تو خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی تمام توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈی سیلینیشن تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔‘
یہ سخت اور جارحانہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ہفتے کی رات ایران کے میزائلوں نے جنوبی اسرائیل کی دو آبادیوں کو نشانہ بنایا جن میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملے اسرائیل کے مرکزی جوہری تحقیقی مرکز کے قریب ہوئے جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ تنازع ایک نہایت خطرناک رُخ اختیار کر رہا ہے۔
اسرائیل میں ایرانی حملے اس وقت ہوئے جب اسی روز تہران کے مرکزی جوہری افزودگی مرکز نطنز جوہری تنصیب پر حملہ کیا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ’وہ جنوبی شہروں ڈیمونا اور اراد پر گرنے والے میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہی۔‘
ڈیمونا اسرائیل کے کم آبادی والے نیگیو صحرا میں واقع ایک اہم مرکز کے قریب سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ایرانی میزائل اس علاقے میں اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کو عبور کرنے میں کامیاب ہوئے۔
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر ) پر کہا ہے کہ ’اسرائیلی حکومت اگر سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود ڈیمونا جیسے علاقے میں میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے، تو یہ عملی طور پر جنگ کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کی علامت ہے۔‘
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ ’مزید ہنگامی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر بھیجی جا رہی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک نہایت مشکل شام ہے۔‘
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق، اراد میں براہِ راست کیے گئے حملے میں کم از کم 10 اپارٹمنٹ عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا، جن میں سے تین عمارتیں شدید متاثر ہوئیں اور منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ کم از کم 64 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ڈیمونا جوہری تحقیقی مرکز سے تقریباً 20 کلومیٹر مغرب میں جبکہ اراد تقریباً 35 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔
یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کا واحد ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، لیکن اسرائیلی رہنما ان دعوؤں کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’اسے اسرائیلی جوہری مرکز کو کسی نقصان پہنچنے یا غیر معمولی تابکاری کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔‘
جنگ ختم ہونے کے قریب نہیں ، سربراہ اسرائیلی فوج
اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ایال ضمیر نے دن کے اوائل میں کہا کہ ’یہ جنگ ختم ہونے کے قریب نہیں ہے۔‘
امریکا اور اسرائیل نے اس جنگ کے لیے مختلف جواز پیش کیے ہیں جن میں ایران کی قیادت کے خلاف بغاوت بھڑکانے سے لے کر اس کے جوہری اور میزائل پروگرامز اور مسلح اتحادی گروہوں کی حمایت ختم کرنا شامل ہے۔ لیکن، ایران میں بغاوت کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے جبکہ انٹرنیٹ پابندیاں ایران سے معلومات کے بہاؤ کو محدود کر رہی ہیں۔
اس جنگ کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے کہیں آگے تک محسوس کیے جا رہے ہیں جس سے خوراک اور ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
یہ واضح نہیں کہ 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کو کتنا نقصان پہنچا ہے یا ایران میں درحقیقت فیصلہ کن اختیار کس کے پاس ہے کیوں کہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو اس عہدے پر نامزد کیے جانے کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

