لاہور :(ملک ظہیر) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عبدالکریم کی ہدایت پر یوم شہادت حضرت علی المرتضیٰؓ کی آمد کے موقع پر صوبہ بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ آئی جی پنجاب نے موجودہ سرحدی صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں 30 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار عزاداری جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی پر تعینات ہوں گے جبکہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں عزاداری جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی کیلئے 08 ہزار سے زائد افسران و اہلکار فرائض انجام دیں گے۔
ترجمان پنجاب پولیس نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صوبہ بھر میں 217 عزاداری جلوسوں کی سکیورٹی پر 20 ہزار جبکہ 994 مجالس کی سکیورٹی پر 10 ہزار سے زائد افسران و اہلکار تعینات ہوں گے۔ مجالس اور عزاداری جلوسوں کے شرکاء کی چیکنگ کیلئے 2029 میٹل ڈٹیکٹرز اور 297 واک تھرو گیٹس استعمال کئے جائیں گے۔ سیف سٹیز اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کے کیمروں کی مدد سے عزاداری جلوسوں اور مجالس کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی۔ لاہور سمیت پنجاب بھر میں کیٹیگری اے کے 32 عزاداری جلوس برآمد ہوں گے جبکہ 67 مجالس منعقد ہوں گی۔ تمام سرگرمیوں کی نگرانی سنٹرل پولیس آفس کے کنٹرول اینڈ مانیٹرنگ روم سے بھی کی جائیں گی۔
آئی جی پنجاب عبدالکریم نے ہدایت کی کہ پولیس افسران و اہلکار انتہائی الرٹ رہیں اور عزاداری جلوسوں و مجالس کے شرکا کی مکمل چیکنگ یقینی بنائیں۔ خواتین عزاداروں کی سکیورٹی چیکنگ کیلئے لیڈی پولیس اہلکار تعینات کی جائیں گی۔
آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ عزاداری جلوسوں میں سادہ لباس میں کمانڈوز تعینات ہوں گے جبکہ روٹس کی چھتوں پر سنائپرز بھی ڈیوٹی انجام دیں گے۔ صوبہ بھر میں متبادل راستوں سے ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کیلئے خصوصی انتظامات کئے جائیں گے۔انہوں نے ہدایت کی کہ ڈولفن سکواڈ، پیرو، سپیشل برانچ، سی ٹی ڈی سمیت تمام فیلڈ فارمیشنز یومِ شہادت حضرت علیؓ کے سکیورٹی انتظامات میں مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں۔ آئی جی پنجاب نے آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کو عزاداری جلوسوں اور مجالس کے سکیورٹی انتظامات خود چیک کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

