نیویارک :امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران شدید کشیدگی پھیل گئی ہے، جہاں میئر ظہران ممدانی کی سرکاری رہائش گاہ ’گریسی مینشن‘ کے باہر ایک اسلام مخالف احتجاج کے دوران مشتبہ دھماکہ خیز ڈیوائس پھینکنے کا سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے بر وقت کارروائی کرتے ہوئے دو اہم مشتبہ افراد سمیت مجموعی طور پر 6 لوگوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
BREAKING:
🇺🇸Assassination attempt on NYC Mayor Zohran Mamdani:
NYPD identified two suspects after an attempted bomb attack outside Gracie Mansion, the residence of Zohran Mamdani @ZohranKMamdani.
Video shows one suspect passing the device to another before an arrest outside… pic.twitter.com/6BmBmvwKIa
— Commentary: Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) March 7, 2026
’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق، یہ پرتشدد صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ’رائٹ ونگ انفلوئنسر‘ جیک لینگ کی جانب سے منعقدہ ایک اسلام مخالف احتجاج کا سامنا بڑی تعداد میں موجود مخالف مظاہرین سے ہوا۔ رمضان کے دوران ہونے والے اس احتجاج نے ماحول کو شدید کشیدہ کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، تصادم کا آغاز اس وقت ہوا جب مسلم مخالف گروپ کے ایک رکن نے مبینہ طور پر مخالف مظاہرین پر ’پیپر اسپرے‘ کا استعمال کیا۔
حالات اس وقت نہائت خطرناک ہو گئے جب احتجاج کے دوران ایک جلتی ہوئی مشتبہ ڈیوائس مظاہرین کے علاقے کی طرف پھینکی گئی۔ آزاد خبر رساں ایجنسی ’فریڈم نیوز‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص نے یہ مشتبہ ڈیوائس دوسرے شخص کو دی، جس کے کچھ ہی دیر بعد وہ گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق، جلتی ہوئی ڈیوائس پھینکنے والا ایک 18 سالہ نوجوان تھا۔
نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ (این وائی پی ڈی) کی کمشنر جیسکا ایس ٹش نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ عینی شاہدین نے ہوا میں اڑتے ہوئے اس ڈیوائس سے آگ اور دھواں نکلتے دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ڈیوائس اڑتے ہوئے ایک بیریئر سے ٹکرائی اور ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران سے محض چند فٹ پہلے ہی بجھ گئی۔
افسران کے مطابق، ڈیوائس شیشے کے ایک جار میں بنی ہوئی تھی، جسے کالے ٹیپ سے لپیٹا گیا تھا۔ فٹبال سے تھوڑی چھوٹی اس ڈیوائس کے اندر نٹ، بولٹ، اسکرو اور ایک فیوز لگا ہوا تھا۔ این وائی پی ڈی کے ماہرین اب اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ کیا یہ واقعی ایک دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائس (آئی ای ڈی) تھا یا صرف خوف پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا کوئی نقلی آلہ۔
اس واقعے کے بعد میئر کی رہائش گاہ اور اطراف میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

