Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ایمیرات ایئر لائن کا بڑا اعلان: ٹرانزٹ مسافروں کے لیے بھی خوشخبری، ری فنڈ اور ری بکنگ کی سہولت کا بھی اعلان

      بھارتی فضائیہ کا سخوئی طیارہ آسام میں گر کر تباہ: دو پائلٹ ہلاک،

      وٹس ایپ نے صارفین کیلئے نیا دلچسپ فیچر متعارف کرادیا

      امریکی دفاعی نظام کو کاری ضرب: قطر میں 1.1 ارب ڈالر مالیت کا جدید ترین ‘ارلی وارننگ ریڈار’ تباہ

      دبئی میں ایمیزون (AWS) کا ڈیٹا سینٹر ملبے کا ڈھیر، عالمی ٹیک انڈسٹری میں زلزلہ!

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      ایران کے سابق صدر احمدی نژاد منظر عام پر آگئے

      دبئی ائیرپورٹ پر میزائل حملہ ، 4 زخمی

      مناما،امریکی پانچواں فلیٹ سروس سینٹر کا تازہ ترین ایرانی حملے کے بعد مکمل صفایا

      ابوظہبی ، ایرانی میزائل حملے کے بعد خوف وہراس،ایک ہلاک، شہری پناہ لینے پر مجبور

      بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان کی مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ”اکیلا آئی جی کرپشن کیسے روکے؟“ توفیق بٹ کا کالم

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: توفیق بٹ
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    آئی جی پنجاب عبدالکریم کے ساتھ ہونے والی حالیہ طویل نشست پر میرا ایک کالم اٹھائیس فروری کو شائع ہوا تھا اس کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا اور کالم کی بقیہ قسطیں بیچ میں ہی رہ گئیں ۔ عبدالکریم کے بارے میں پہلے بھی میں یہ عرض کر چکا ہوں وہ میرے پرانے مہربان ہیں، وہ صرف میرے مہربان نہیں دوسروں پر مہربانی کرنا ان کی فطرت میں شامل ہے، آئی جی پنجاب بننے کے بعد ان کی یہ فطری خصوصیت مزید نکھر کر سامنے آگئی ہے، میری موجودگی میں انہیں اپنے کسی جاننے والے کی کال آئی، وہ بغیر بتائے ان سے ملنے آگئے تھے اور ان کے دفتر کے باہر روڈ پر کھڑے تھے، انہوں نے ان سے بالکل یہ نہیں کہا کہ “آئی جی اتنا فارغ نہیں ہوتا بغیر وقت مقرر کئے ہر کسی سے مل لے” انہوں نے اپنے بہت ہی نفیس پی ایس او ڈاکٹر رضوان سے کہا “میں آپ کو ایک موبائل نمبر سینڈ کر رہا ہوں باہر میرے ایک جاننے والے بزرگ آئے ہیں انہیں اندر بلا کر اپنے آفس میں بیٹھا لیں میں کچھ دیر تک ان سے ملتا ہوں۔” جس سیٹ پر وہ بیٹھے ہیں بڑے بڑے فرعون اور نمرود اس پر بیٹھے رہے، آج ان کے بارے میں کسی کو معلوم ہی نہیں وہ زندہ ہیں یا مر چکے ہیں ؟ اور بڑے بڑے اعلیٰ ظرف اور مہربان بھی اس سیٹ پر رہے جنہیں لوگ آج بھی اچھے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ اپنے ماتحتوں کا خیال کرتے تھے دوسری طرف عوام کو ریلیف دینے کی کوشش بھی کرتے رہے، بدقسمتی سے ہماری پولیس کا ڈھانچہ یا فطرت ہی ایسی ہے عوام کا دوست بننے کا کوئی تصور ہی اس کے ہاں نہیں ہے، حال ہی میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ہدایت جاری کی ہے کہ”پنجاب پولیس لوگوں کو سر یا میڈم کہہ کے بلائے“، بندہ پوچھے اس سے کیا فرق پڑے گا ؟ سوائے اس کے کوئی پولیس ملازم یا افسر اگر رشوت لیتا ہے وزیراعلیٰ کی اس ہدایت کے بعد وہ یہ کہہ کے رشوت لیا کرے گا۔”سر جی ایس کام دی فیس دو لاکھ ہووے گی“، بلکہ ہو سکتا ہے صرف ”سر جی“ کہنے کی تکلیف میں وہ رشوت کا ریٹ دو لاکھ سے بڑھا کر تین لاکھ کر دے۔ یعنی ”اوئے“ کہہ کے کام کرنے کی فیس دو لاکھ روپے اور”سر جی“ کہہ کے کام کرنے کے تین لاکھ روپے، ظاہرہے رشوت دینے والا صرف ”سر جی“ کہلوانے کا ایک لاکھ اضافی کیوں دے گا ؟ اسی طرح اگر کوئی پولیس افسر یا پولیس ملازم کسی پر ناجائز تشدد کرتے ہوئے یا اسے چھتر وغیرہ مارے ہوئے اسے ”سر جی سر جی“ کہتا رہے، چھتر کھانے والے یا ظلم برداشت کرنے والے کو اس سے کیا فرق پڑے گا ؟ اگلے روز لاہور کے ایک تھانے میں ایک اے ایس آئی کو کسی نے اس کی من پسند رشوت یعنی ”فیس“ دینے سے انکار کیا اس نے اپنے ماتحت سے کہا”اوئے کاکا سر جی ہوراں نوں زرا لمیا پا کے ایناں دے وٹ کڈ، دو چار چھتر زرا ایناں دے آگے پیچھے وچ کار کر کے پھیر تاکہ ایناں نوں پتہ چلے بغیر فیس دے کام نئیں ہوندے ، ایہہ اپنے ولوں جاپان آئے نی“، صرف ایک کام سے پولیس کا رویہ تھوڑا بہت بہتر ہو سکتا ہے اور وہ سزا اور جزا کے نظام میں توازن پیدا کرناہے، دوسرا کچھ بہتری اس سے بھی آسکتی ہے پولیس کے اعلیٰ افسران اپنے دروازے عام لوگوں کے لئے اسی طرح کھلے رکھیں جس طرح وہ اپنے دروازے اپنی بڑی بڑی فرمائشیں پوری کرنے والوں کے لئے کھلے رکھتے ہیں ، نمائشی کھلی کچہریوں میں مظلوم لوگوں کی درخواستیں صرف آگے مارک کر کے گونگلووں سے مٹی نہ جھاڑیں بلکہ موقع پر فیصلے کریں، قصور وار پولیس ملازمین کو سزائیں دیں ، جنہیں سزائیں دینے کا اختیار نہیں رکھتے ان کی سرزنش کریں انہیں لیٹر آف ڈس پلئیر جاری کریں اور اگر کسی ملازم یا افسر نے ٹھیک کام کیا ہے اسے موقع پر شاباش اور انعام دیں، ماتحت پولیس کو جب یہ پتہ ہوگا اعلیٰ افسران کے دروازے عام لوگوں کے لئے روزانہ اور ہر وقت کھلے ہیں اور کوئی بھی ان کی شکایت کرسکتا ہے پھر بادل نخواستہ سہی عام لوگوں کے ساتھ وہ اپنا رویہ کچھ نہ کچھ ضرور درست کرلیں گے اور”فیس“ وصول کرتے ہوئے بھی ہزار بار سوچیں گے، آئی جی عبدالکریم نے فرمایا”وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے ان کے ماتحت افسران عوام کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھیں اور ان کی ہرممکن دادرسی کریں، بلکہ خود بھی وہ یہ کوشش کریں گے فون کالز پر روزانہ عوام سے براہ راست رابطے میں رہیں اور ہفتے میں کم از کم دو دن اپنے دفتر میں بھی کھلی کچہری لگائیں“، کھلی کچہریوں والا کام پنجاب پولیس کے کچھ سربراہان پہلے بھی کرتے رہے ہیں مگر اس کے مستقل و دیرپا اثرات اس لئے قائم نہیں ہوسکے ظلم کرنا اور حرام کھانا پولیس کی فطرت میں شامل ہے ۔ کہا جاتا ہے”پولیس والوں کی تنخواہیں بڑھا دیں، ان کی ڈیوٹیاں کم کر دیں، ان کے رویے اور کارکردگی درست ہو جائے گی ۔ وہ رشوت لینا چھوڑ دیں گے یا کم کردیں گے“۔ چلیں یہ بھی کر کے دیکھ لیں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، جس کی فطرت میں حرام کمانا ہے اس کی تنخواہ آپ دس گنا بڑھا دیں وہ اپنے ”اصل کام“ سے پھر بھی باز نہیں آئے گا، بلکہ اس کی ہوس مزید بڑھ جائے گی، کچھ برس پہلے سول ججوں کی تنخواہیں شاید سو فیصد بڑھائی گئی تھیں ، کیا اس سے رشوت کم ہو گئی ہے ؟ سی ایم صاحبہ نے ایک حالیہ ”نمائشی اجلاس“ میں کرپٹ افسروں کو نکالنے کا کہا ہے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے پہلے تو آپ ان کرپٹ افسروں کو نکالیں جنہیں نکالنے کا اختیار ہی صرف آپ کے پاس ہے۔ کیا آپ ان افسروں کو نہیں جانتیں جن کی پراپرٹیاں لاہور سے پرتگال تک پھیلی ہیں؟ جن کے گھر اور دفاتر ناجائز قبضے کرانے اور چھڑانے کے مراکز بنے ہوئے ہیں ۔ اگر آپ ان کا بال بیکا نہیں کرسکتیں، وہ مسلسل اپنے عہدوں سے چمٹے ہوئے ہیں پھر دوسروں کو یہ کہنے سے کیا حاصل ہوگا کہ”کرپٹ لوگوں کو فارغ کریں“۔ ویسے بھی کرپٹ لوگ اگر فارغ ہوگئے سرکاری نظام کیسے چلے گا؟ حکمرانوں کے خرچے کیسے چلیں گے؟ وہ اربوں روپے کے جہاز کیسے خریدیں گے؟ دس دس، بیس بیس کروڑ کی گاڑیاں کیسے رکھیں گے؟ پچاس پچاس لاکھ کے پرس کیسے پکڑیں گے؟ کروڑ کروڑ روپے کی گھڑیاں کیسے پہنیں گے؟ سو میرے خیال میں کرپٹ لوگوں کو محکموں سے نکالنے کی دھمکی کا کرپٹ افسروں پر تو خاص اثر نہیں ہونا البتہ عوام کے لئے یہ مسئلہ ضرور پیدا ہو جائے گا کہ کرپٹ افسران اگر فارغ ہو گئے ان کے جائز کام بھی نہیں ہونے، ایماندار افسروں نے تو کسی کے جائز کام بھی نہیں کرنے، انہوں نے کہنا کہ ہے جب ہم نے پیسے ہی نہیں لینے تو کام کیوں کریں ؟ ایماندار افسروں کے اپنے ذہنی مسائل ہوتے ہیں ان پر بھی بات کریں گے۔

    Related Posts

    آپریشن “غضب للحق”وزیرستان میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی متعدد پوسٹیں تباہ

    سونے کی قیمتوں کوپر لگ گئے،ہوش رہا اضافہ، عام آدمی کےبعد اب خواص کی پہنچ سے بھی باہر

    پٹرول،ڈیزل قیمتوں میں اضافہ، کرایوں میں 20 فیصد اضافے کا اعلان، مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا

    مقبول خبریں

    ایمیرات ایئر لائن کا بڑا اعلان: ٹرانزٹ مسافروں کے لیے بھی خوشخبری، ری فنڈ اور ری بکنگ کی سہولت کا بھی اعلان

    سونے کی قیمتوں کوپر لگ گئے،ہوش رہا اضافہ، عام آدمی کےبعد اب خواص کی پہنچ سے بھی باہر

    پوتن کا ایران کو ’خفیہ تحفہ‘: امریکی بحری بیڑوں کو نشانہ بنانے کے لیے روسی انٹیلی جنس کی مدد کا انکشاف، 

    پٹرول،ڈیزل قیمتوں میں اضافہ، کرایوں میں 20 فیصد اضافے کا اعلان، مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا

    “ریاستی سادگی کا تقاضا: افسران کی پیٹرول مراعات پر نئی حد بندی”

    بلاگ

    ”اکیلا آئی جی کرپشن کیسے روکے؟“ توفیق بٹ کا کالم

    “ریاستی سادگی کا تقاضا: افسران کی پیٹرول مراعات پر نئی حد بندی”

    روشنیاں مدھم، سناٹا گہرا: مشرقِ وسطیٰ کے تصادم نے عالمی سیاحت کا رخ ترکیہ اور یورپ کی طرف موڑ دیا۔

    کچے کے ڈاکوؤں سرنڈر، جدید اسلحہ کہاں غائب ہوا؟ بھاری ہتھیار قومی تحویل میں لینے کا مطالبہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.